بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نیوتہ اور سہرا باندھنے کا حکم


سوال

1 - شادی بیاہ کے موقع پر ایک آدمی نے پانچ سو روپے دیے تو جب دوسرا آدمی اس کی شادی پر جاتا ہے تو ایک ہزار روپے دیتا ہے اور اسی طرح ایک آدمی کی بیٹی کی شادی پر ایک سوٹ دیتا ہے تو دوسرا آدمی اس پہلے آدمی کی بیٹی کی شادی پر دو سوٹ دینے کا اہتمام کرتا ہے ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟نیوتہ کا کیا حکم ہے2ـ- اسی طرح سہرا باندھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ صورت کہ "شادی بیاہ کے موقع پرایک آدمی  پانچ سو روپے دیتاہے تو جب دوسرا آدمی اس کی شادی پر جاتا ہے تو ایک ہزار روپے دیتا ہے اور اسی طرح ایک آدمی کی بیٹی کی شادی پر ایک سوٹ دیتا ہے تو دوسرا آدمی اس پہلے آدمی کی بیٹی کی شادی پر دو سوٹ دینے کا اہتمام کرتا ہے"شرعاًدرست نہیں ،یہ نیوتہ کی رسم کہلاتی ہے۔نیوتہ کی رسم جو عام خاندانوں اور اہلِ  قرابت میں چلتی ہے وہ یہ ہےکہ: عام طور پر رشتہ داراورخاندان کے لوگ جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں اس پرنظر رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے وقت میں کچھ دے گا کبھی رسمی طور پر کچھ زیادہ دے گا، خصوصاً نکاح، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا لیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جس کو عرف میں ’’نیوتہ  “ کہتے ہیں۔ اس رسم سے بچناضروری ہے۔

2ـ- سہراباندھناہندوانہ  رسم ہے،اس کوترک کرنا اورچھوڑ نالازم ہے۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"و عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ‌تشبه بقوم فهو منهم» . رواه أحمد وأبو داود."

(کتاب الباس،الفصل الثانی،2/ 1246،ط:المكتب الإسلامي)

معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے:

"وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَا ‌فِيٓ ‌أَمْوَالِ النَّاسِ":اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے جو عام خاندانوں اور اہلِ قرابت میں چلتی ہے وہ یہ کہ عام طور پر کنبہ رشتہ کے لوگ جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں اس پرنظر رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے وقت میں کچھ دے گا کبھی رسمی طور پر کچھ زیادہ دے گا، خصوصاً نکاح، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا لیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جس کو عرف میں ”نوتہ“ کہتے ہیں۔ اس آیت میں ہدایت دی گئی ہےکہ اہل قرابت کا جو حق ادا کرنے کا حکم پہلی آیت میں دیا گیا ہےان کو یہ حق اس طرح دیا جائے کہ نہ ان پر احسان جتائے اور نہ کسی بدلے پر نظر رکھے اور جس نے بدلےکی نیت سے دیاکہ ان کا مال دوسرے عزیز رشتہ دار کے مال میں شامل ہونے کے بعد کچھ زیادتی لے کر واپس آئےگا تو اللہ کے نزدیک اس کا کوئی درجہ اور ثواب نہیں اور قرآن کریم نے اس زیادتی کو لفظ ربوٰ سے تعبیر کر کے قباحت کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ ایک صورت سود کی سی ہوگئی ۔"

(معارف القرآن،750/6،ط:مکتبہ معارف القرآن)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سہرا  باندھنااصالۃً ہندوانہ رسم ہے،جو کہ ہندوستان کے بے علم اور بے عمل خاندانوں میں بھی ان کے اختلاط سے باقی رہ گئی ،اس کو ترک کرنا لازم ہے۔ہندوستان کے اکابر علماء:مفتی عزیز الرحمان صاحب،حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب،حضرت مولانا خلیل احمد صاحب،حضرت مولانا اشرف علی صاحب رحمھم اللہ تعالٰی نے حدیث "من ‌تشبه بقوم فهو منهم"  کی رو سے اس کو منع فرمایا ہے۔"

(باب ما یتعلق بالرسوم عند الزفاف،213/11 ط:ادارۃ الفاروق) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100387

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں