بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں حالت قیام میں نگاہ کہاں رکھی جائے؟


سوال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز شروع کرنے سے پہلے نیت باندھتے ہوئے نظریں سامنے رکھی جائیں اور یہ تصور کیا جائے کہ میرے سامنے قبلہ ہے،اوربعض کہتے ہیں کہ نظریں سجدے کی جگہ رکھی جائیں، برائے مہربانی درست طریقہ کی راہ نمائی فرما دیں۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں نماز میں خشوع وخضوع برقرار رکھنے کے لیے  مستحب ہے کہ حالتِ قیام میں سجدہ کی جگہ نظر جمی رہے، حالتِ رکوع میں قدموں پر نظر رہے، سجدہ میں ناک پر نگاہ رہے، اور حالتِ قعدہ میں اپنی گود پر نظر رہے، یہ حکم ہر حالت میں ہے، حتی کہ اگر کوئی شخص بیت اللہ شریف کے عین سامنے نماز پڑھ رہا ہو تو اسے بھی مذکورہ آداب کا خیال رکھنا چاہیے، دورانِ نماز اسے کعبۃ اللہ پر نظر نہیں جمانی چاہیے۔

کعبہ کا تصور کر کے نظر سامنے   رکھنے والی بات کسی روایت سے ثابت نہیں ہے ،جبکہ فقہاء نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی عین کعبہ کے سامنے بھی نماز پڑھ رہا ہو ،تو وہ  بھی حالتِ قیام میں  سجدے کی جگہ نظر رکھے گا،چہ جائے کہ کعبہ سامنے نہ ہو ۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے :

"و منها" نظر المصلي" سواء كان رجلا  أو امرأة"إلى موضع سجوده قائماً" حفظاً له عن النظر إلى ما يشغله عن الخشوع، "و" نظره "إلى ظاهر القدم راكعاً وإلى أرنبة أنفه ساجداً وإلى حجره جالساً" ملاحظاً قوله صلى الله عليه وسلم: "اعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تره فإنه يراك"، فلايشتغل بسواه، "و" منها نظره "إلى المنكبين مسلماً" وإذا كان بصيراً أو في ظلمة فيلاحظ عظمة الله تعالى". 

وفی الطحطاوي تحته: ويفعل هذا ولو كان مشاهداً للكعبة على المذهب".

(کتاب الصلوۃ،فصل فی آداب الصلوۃ،ص: 276،ط:دارالکتب العلمیة)

فتاویٰ شامی میں ہے :

(ولها آداب) تركه لا يوجب إساءة ولا عتابا كترك سنة الزوائد، لكن فعله أفضل (نظره إلى موضع سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه حال ركوعه...

(قوله ولها آداب) جمع أدب، وهو في الصلاة ما فعله رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مرة أو مرتين ولم يواظب عليه كالزيادة على الثلاث في تسبيحات الركوع والسجود كذا في غاية البيان والعناية وغيرهما. وعرفه في أول الحلية بتعاريف متعددة، وقال: والظاهر مساواته للمندوب۔۔(قوله: لتحصيل الخشوع) علة للجميع؛ لأن المقصود الخشوع وترك التكليف، فإذا تركه صار ناظراً إلى هذه المواضع قصد أو لا، وفي ذلك حفظ له عن النظر إلى ما يشغله، وفي إطلاقه شمول المشاهد للكعبة؛ لأنه لا يأمن ما يلهيه...

وإذا كان في الظلام أو كان بصيراً يحافظ على عظمة الله تعالى؛ لأن المدار عليها، وتمامه في الإمداد. وإذا كان المقصود الخشوع، فإذا كان في هذه المواضع ما ينافيه يعدل إلى ما يحصله فيها."

(كتاب الصلوة ، آداب الصلوة،ج:1،ص:477،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144507101250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں