بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نمازِ وتر کی قضاء میں کتنی رکعات ہیں؟


سوال

قضاء وتر کا طریقہ کیا رہے گا ؟کتنی رکعتوں میں پڑھنی ہے؟

جواب

واضح رہے وتر کے قضاء کا وہی طریقہ ہے جو ادا کا ہے،یعنی جس طرح تین رکعت   ایک سلام  کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں ،اسی طرح سے قضاء میں بھی تین رکعت ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔

سنن دار قطنی میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌وتر ‌الليل ‌ثلاث كوتر النهار صلاة المغرب»."

(كتاب الوتر، الوتر ثلاث كثلاث المغرب، ج:2 ص:349 ط: مؤسسة الرسالة)

و فیہ ایضاً:

"عن أبي سعيد ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌نام ‌عن ‌وتره أو نسيه فليصله إذا أصبح أو ذكره»."

(كتاب الوتر، من نام عن وتره أو نسيه، ج:2 ص:339 ط: مؤسسة الرسالة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌ويجب ‌القضاء ‌بتركه ‌ناسيا ‌أو ‌عامدا وإن طالت المدة ولا يجوز بدون نية الوتر. كذا في الكفاية ومتى قضي الوتر قضي بالقنوت ."

(كتاب الصلاة، الباب الثامن في صلاة الوتر، ج:1 ص:111 ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101869

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں