بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

نکاح سے قبل طلاق کو بطور مثال ذکر کرنے کا حکم


سوال

زید نے اپنے پسند سے رشتہ کیا ہوا ہے، ابھی نکاح نہیں ہوا ، ماں باپ کی پسند شامل ہے ، لیکن یہ رشتہ  زید نے اپنی پسند سے کیا ہے، کسی بات پر  زید کی اپنی سسرال والوں سے (ساس سے) لڑائی ہو گئی  تو زید پریشان تھا اور اپنی پریشانی دور کرنے کے لیے دوست کو کال کیا، دوست کو بتایا کہ پرانے وقتوں میں جب صرف ماں باپ کی مرضی سے رشتہ ہو جاتا تھا تو اگر لڑکے کو لڑکی پسند نہ آتی تھی تو لڑکی سے جان چھڑا لیتے تھے، ایک دوست کا حوالہ بھی دیا کہ اس نے بھی اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، مطلب یہ  تھا کہ پرانے وقتوں میں جب صرف ماں باپ رشتہ کروا دیتے تھے تو پوری ذمہ داری ان کی ہوتی تھی،  پھر زید کو احساس ہوا کہ مجھے سسرال سے لڑائی کی بات کو سمجھا نے کے لیے ایسی مثال نہیں دینی چاہیے تھی،اب زید کو شک پڑ گیا کہ کہیں یہ مثال حال میں ان کی موجودہ منگیتر کی طرف، یا مستقبل میں اسی منگیتر جب بیوی بن جائے گی کی طرف منسوب تو نہیں ہوا (زید کی کوئی بھی نیت نہیں  تھی اس کو اپنی موجودہ منگیتر یا مستقبل میں اسی بیوی کی طرف منسوب کرنے کی)، سوال یہ ہے کہ اوپر بیان کیے گئے الفاظ کی وجہ سے مستقبل میں زید کی نکاح پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا. راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

جب   زید نے نکاح سے پہلے سسرال والوں کو سمجھانے کے لیے   ایک دوست کا حوالہ دیا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی تو اس سے مستقبل میں  زید کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔

فتح القدیر میں ہے :

"و شرطه في الزوج أن يكون عاقلًا بالغًا مستيقظًا، و في الزوجة أن تكون منكوحته أو في عدته التي تصلح معها محلًّا للطلاق."

(کتاب الطلاق ،ج:3، ص:463، دارالفکر)

البحرالرائق میں ہے :

"لو ‌كرر ‌مسائل ‌الطلاق بحضرة زوجته ويقول أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال ثم يقف ويكتب: امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه."

(کتاب الطلاق،باب الفاظ الطلاق،ج:۳،ص:۲۷۸،دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100449

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں