بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1445ھ 25 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

نکاح پڑھانے کے لیے ایمان کا ہونا ضروری نہیں


سوال

نکاح پڑھانے کے لیے کیا ایمان کا ہونا ضروری ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ دین دار مسلمان، یا عالمِ دین سے نکاح پڑھانا مستحب اور بہتر ہے، نکاح پڑھانے کے لیے نکاح خواں کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ،باقی اگر کسی غیر مسلم نے نکاح پڑھالیا، اور مجلس نکاح میں دلہا اور دلہن یا دلہن کا وکیل اورگواہان موجود تھے تو ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا؛ اس لیے کہ نکاح خواں کی حیثیت محض معبر اور سفیر  کی ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے :

"والمعنى فيه أن العاقد في باب النكاح سفير ومعبر۔"

(کتاب النکاح ،باب الوکالۃ فی النکاح ،ج:۵،ص:۱۸،دارالمعرفۃ)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

" جو شخص نکاح پڑھاتا ہے وہ شرعی قاضی نہیں  لہذا اس میں قاضی کی شرائط کا پایا جانا ضروری نہیں وہ شخص محض ایجاب وقبول کی تعبیر کرتا ہے۔"

(فتاویٰ محمودیہ، جلد 10 کتاب النکاح، زیرِ عنوان: برہمن سے نکاح پڑھوانا، نیز: شیعہ وغیرہ سے نکاح پڑھوانا، ص: 596-598۔ ط: جامعہ فاروقیہ، کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں