بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نکاح پڑھانے کا طریقہ


سوال

نکاح کس طرح پڑھاتے ہیں اور وہاں کیا کیا بولنا ہے؟

جواب

نکاح پڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نکاح کے موقع پر پڑھے جانا والا خطبہ پڑھا جائے اس کے بعد لڑکے سے ایجاب کروانے کے لیے کہا جائے کہ میں نے اتنی مقدار مہر کے عوض فلانی (لڑکی کا نام) بنت فلاں (لڑکی کے والد کا نام) کے ساتھ آپ کا نکاح کرادیا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟ پھر جب لڑکا کہہ دے کہ ’’قبول ہے‘‘ تو نکاح خواں لڑکی کی طرف سے مقررہ وکیل کی وکالت  ملنے کی تصدیق کرنے کے بعد اس سے کہے کہ میں نے فلانی بنت فلاں (جس نے آپ کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا ہے) کا نکاح اتنی مقدار مہر کے عوض فلاں ابن فلاں سے کردیا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟ اور لڑکی خود مجلس میں موجود ہو تو اس سے کہے کہ میں نے آپ کا نکاح اتنی مقدار مہر کے عوض فلاں ابن فلاں سے کرادیا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟ جیسے ہی لڑکی یا اس کا وکیل ’’قبول ہے‘‘ کہہ دے تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔

ایجاب و قبول میں یہ ترتیب لازم نہیں ہے، پہلے لڑکی یا اس کے وکیل سے ایجاب اور لڑکے سے بعد میں قبول بھی کروایا جاسکتاہے۔ نیز نکاح خواں یہ بھی کرسکتاہے لڑکی یا اس کے وکیل سے اختیار لے کر لڑکے سے یوں کہہ دے کہ "میں نے فلانہ بنت فلاں کو نکاح آپ کے ساتھ کردیا" اور لڑکا کہے کہ میں نے قبول کیا، اس سے بھی نکاح منعقد ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر لڑکا اور لڑکی دونوں ہی اپنا اختیار نکاح خواں کو سپرد کردیں، اور نکاح خواں گواہوں کے روبرو ایک ہی جملے میں یوں کہہ دے: " میں نے فلانہ بنت فلاں کا نکاح فلاں بن فلاں کے ساتھ کردیا" تو اس سے بھی نکاح منعقد ہوجائے گا۔  

خطبہ نکاح کا  بہتر طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا  کرنے کے بعد سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر: ۱۰۲ ، سورہ نساء کی آیت نمبر: ۱ ، اور سورہ احزاب کی آیت نمبر  : ۷۰،۷۱  پڑھی جائے، اس کے بعد نکاح سے متعلق چند احادیث پڑھ لی جائیں۔ ذیل میں نمونہ کے طور پر ایک خطبہ لکھا جارہا ہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِیْنُه وَنَسْتَغْفِرُه وَنُؤْمِنُ بِه وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئاٰتِ اَعْمَالِنَا مَن یَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِیَ لَهُ۞ونشْهَدُ أَنْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهٗ  لَا شَرِیْکَ لَهٗ۞وَنشْهَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُه، أَمَّا بَعْدُ  فأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم ۞ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِِْ۞ { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1] {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (71)} [الأحزاب: 70، 71]  قال النبيﷺ :   «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ». و قال عليه الصلاة والسلام : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَات الدّين تربت يداك".  وقالﷺ :  «الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة». وقال عليه الصلاة والسلام : ’’ النكاح من سنتي ‘‘. و في رواية : ’’ فمن رغب عن سنتي فليس مني ‘‘ أو كما قال عليه الصلاة والسلام".

حوالہ جات:

مشكاة المصابيح (2/ 941):

"عن عبد الله بن مسعود قال: علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم التشهد في الصلاة والتشهد في الحاجة قال: التشهد في الصلاة: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله» . [ص:942] والتشهد في الحاجة: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله» . ويقرأ ثلاث آيات: {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولاتموتن إلا وأنتم مسلمون} {يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالاً كثيراً ونساءً واتقوا الله الذي تساءلون والأرحام إن الله كان عليكم رقيباً} {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولاً سديداً يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزاً عظيماً}. رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي.

وفي جامع الترمذي فسر الآيات الثلاث سفيان الثوري، وزاد ابن ماجه بعد قوله: «إن الحمد لله نحمده» وبعد قوله: «من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا»، والدارمي بعد قوله: «عظيماً»: ثم يتكلم بحاجته. وروى في شرح السنة عن ابن مسعود في خطبة الحاجة من النكاح وغيره".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2069):

«عن عبد الله بن مسعود قال: علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم التشهد في الصلاة والتشهد في الحاجة»، أي: من النكاح وغيره، والتشهد إظهار الشهادة بالإيقان أو طلب التشهد، وهو حلاوة الإيمان أو طلب الشهود وهو الحضور والعرفان في مقام الإحسان ... (ويقرأ ثلاث آيات) قال الطيبي - رحمه الله -: " هذا في رواية النسائي، وهو يقتضي معطوفاً عليه، فالتقدير يقول: الحمد لله ويقرأ أي النبي صلى الله عليه وسلم:" {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته} [آل عمران: 102].

فتاوی شامی میں ہے:

(قَوْلُهُ: وَتَقْدِيمُ خُطْبَةٍ) بِضَمِّ الْخَاءِ مَا يُذْكَرُ قَبْلَ إجْرَاءِ الْعَقْدِ مِنْ الْحَمْدِ وَالتَّشَهُّدِ، وَأَمَّا بِكَسْرِهَا فَهِيَ طَلَبُ التَّزَوُّجِ، وَأَطْلَقَ الْخُطْبَةَ فَأَفَادَ أَنَّهَا لَاتَتَعَيَّنُ بِأَلْفَاظٍ مَخْصُوصَةٍ، وَإِنْ خَطَبَ بِمَا وَرَدَ فَهُوَ أَحْسَنُ، وَمِنْهُ مَا ذَكَرَهُ ط عَنْ صَاحِبِ الْحِصْنِ الْحَصِينِ مِنْ لَفْظِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَهُوَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُ بِهِ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاَللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: ١] إلَى {رَقِيبًا} [النساء: ١] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاتَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ١٠٢] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا} [الأحزاب: ٧٠] إلَى قَوْلِهِ {عَظِيمًا} [الأحزاب: ٧١] » . اهـ". ( كِتَابُ النِّكَاحِ، ٣ / ٩)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں