بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شوال 1443ھ 21 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

نکاح نامہ میں دولہا دلہن کی ولدیت غلط لکھنے کی صورت میں نکاح کا حکم


سوال

نکاح نامہ میں اصل ولدیت کے علاوہ کسی اور کا نام لکھوانا جائز ہے؟

اگر لڑکا یا لڑکی میں سے کسی ایک نے نکاح نامہ میں اپنی اصل ولدیت کے علاوہ کسی اور کا نام لکھوایا ہو تو کیا نکاح صحیح ہوجائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی نسبت حقیقی والد کے علاوہ کسی اور  کی طرف بطور ولدیت کرنا بنص قرآنی حرام ہے، ایسے شخص کے بارے میں سخت وعیدات احادیث میں وارد ہوئی ہیں،  لہذا اپنی درست ولدیت لکھنی، اور بتانی چاہیے۔

ریاض الصالحین میں ہے:

"باب تحريم انتساب الإِنسان إِلَى غير أَبيه وَتَولِّيه إِلَى غير مَواليه

"عَنْ سَعْدِ بن أَبي وقَّاصٍ أنَّ النبيَّ ﷺ قالَ: مَن ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أنَّهُ غَيْرُ أبِيهِ فَالجَنَّةُ عَلَيهِ حَرامٌ. متفقٌ عليهِ".

ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جس شخص نے اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جانتے ہوئے اپنا والد قرار دیا تو اس پر جنت حرام ہے۔

" وعن أبي هُريْرَة عَن النَّبيِّ ﷺ قَالَ: لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أبيهِ فَهُوَ كُفْرٌ. متفقٌ عليه".

ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اپنے والد سے بے رغبتی و اعراض مت کرو ؛ اس لیے کہ جو شخص اپنے والد سے اعراض (اپنے آپ کو کسی اور کی طرف منسوب) کرے گا تو یہ کفر ہے۔

"وَعَنْ يزيدَ شريكِ بن طارقٍ قالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا عَلى المِنْبَرِ يَخْطُبُ، فَسَمِعْتهُ يَقُولُ: ... وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أبيهِ، أَوْ انتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَاليهِ، فَعلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّه وَالملائِكَةِ وَالنَّاسِ أجْمَعِينَ، لا يقْبَلُ اللَّه مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامةِ صَرْفًا وَلا عَدْلًا. متفقٌ عليه".

ترجمہ: حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں : جو شخص اپنے والد کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا والد قرار دے گا یا غیر کی طرف منسوب کرے گا تو اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، روز قیامت اللہ اس کی مالی عبادات قبول نہیں کرے گا۔

"وَعَنْ أَبي ذَرٍّ أنَّهُ سَمِعَ رسولَ اللَّه ﷺ يَقُولُ: لَيْسَ منْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْر أبيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إلاَّ كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لهُ، فَلَيْسَ مِنَّا، وَليَتَبوَّأُ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّار، وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ، أوْ قالَ: عدُوَّ اللَّه، وَلَيْسَ كَذلكَ إلاَّ حَارَ عَلَيْهِ متفقٌ عليهِ. وَهَذَا لفْظُ روايةِ مُسْلِمِ".

ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جانتے ہوئے کسی اور کے بارے میں والد ہونے کا دعوی کسی نے کیا تو اس نے کفر کیا ۔۔۔الحدیث

صورتِ مسئولہ میں اگر مجلسِ  نکاح میں دولہا و  دولہن موجود نہ تھے، اور ان کے وکیل نے ان کی جانب سے ایجاب و قبول کرتے ہوئے  ولدیت میں غلط بیانی کی ہو تو ایسی صورت میں مذکورہ نکاح درست نہیں  ہوگا، صحیح ولدیت کے ساتھ دوبارہ نکاح کرانا ضروری ہوگا، نکاح کرائے بغیر مذکورہ لڑکا اور لڑکی کا میاں بیوی کی حیثیت سے  ساتھ رہنا جائز نہ ہوگا۔ البتہ اگر نکاح کی مجلس میں دونوں موجود تھے،   اور دونوں نے نکاح کا ایجاب و قبول آمنے سامنے کیا تھا، تو  اس صورت میں ولدیت میں غلطی کے باوجود نکاح درست ہوجائے گا، دوبارہ نکاح کرانے کی شرعًا ضرورت نہ ہوگی۔

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر میں ہے:

"ولو غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها ولم تكن حاضرة لاينعقد النكاح.

قوله: ولم تكن حاضرة لاينعقد النكاح إلخ.

لأنها إذا لم تكن حاضرة تحتاج إلى تعيينها وتعريفها بنسبتها إلى أبيها.

وإذا وقع الغلط في اسم أبيها لم تتعين فلا ينعقد النكاح، وأما إذا كانت حاضرة فلا يضر الغلط في اسم أبيها لتعينها بالإشارة إليها فلا يحتاج إلى التعريف."

( الثالثة: ولاية المطالبة بإزالة الضرر العام عن طريق المسلمين، ٢ / ١١١ - ١١٢، ط: دار الكتب العلمية)

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"(غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح

(قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط خلافا لابن الفضل وعند الخصاف يكفي مطلقا والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل؛ لأن ذكر الاسم وحده لا يصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوبا إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق على فاطمة بنت محمد تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها، كما لو قال اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو فإنه يصح۔"

( كتاب النكاح، ٣ / ٢٦، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں