بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نکاح کرلینے سے بیوہ کا حصہ وراثت ختم نہیں ہوتا


سوال

ہماری زمین ابھی دادا ابو کے نام ہے، دادا کی وفات کے بعد ایک چاچو کی وفات ہو گئی ہے،  چاچو کی کو ئی   اولاد نہیں ہے، ان کی بیوہ نے بیوگی کے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی ہے،کیا اس صورت میں ان کی بیوہ کا زمین میں حصہ ہے ؟ کیوں کہ ابھی تک زمین ان کے شوہر کے نام نہیں ہوئی  تھی، اور دوسری شادی کر لی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ شوہر کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں اس کی بیوہ کا  حصہ ہوگا، اگر چہ وہ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلے، لہذ صورتِ مسئولہ میں سائل کے چچا کی بیوہ كو ان ـ(اپنے شوہر) کی میراث میں  حصہ ملے گا ،اگر چہ  زمین سائل کے چچا کے نام نہیں ہوئی تھی،  اور خواہ   ان کی بیوی  نے دوسری جگہ شادی کرلی ہو،اور اس کو شوہر کے حصے میں سے 25 فیصد ملے گا۔

شرح مختصر الطحاوي للجصاص  میں ہے:

"(وللمرأة من ميراث زوجها الربع إذا لم يكن له ولد، ولا ولد ابنٍ، فإن كان له ولد، أو ولد ابنٍ، وإن سفل: فلها الثمن).وذلك لقول الله تعالى: {ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم".

(مسألة: ميراث ‌الزوجة،83/4، ط : دار البشائر الإسلامية)

موسوعة الإجماع في الفقه الإسلامي میں ہے: 

"المراد بالمسألة: أن الزوجة ترث من ‌زوجها ‌الربع بشرط واحد، وهو: عدم الفرع الوارث، والثمن مع وجوده.مثاله: لو مات رجل عن زوجة، وأخ شقيق، فالمسألة من (أربعة أسهم) للزوجة الربع (سهم واحد) وذلك لعدم ولد الميت، والباقي (ثلاثة أسهم) للأخ الشقيق عصبة، ولو مات زوج عن زوجة، وابن، فالمسألة من (ثمانية أسهم) للزوجة الثمن (سهم واحد) والباقي (سبعة أسهم) للابن".

(ترث الزوجة من ‌زوجها ‌الربع والثمن، 516/8، ط : دار الفضيلة)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144506102638

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں