بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نکاح کا پیغام کیسے بھیجاجائے؟


سوال

لڑکاخود نکاح کا پیغام کیسے بھیجے  لڑکی کے  گھر والوں کو؟ اور پیغام بھیجنے کے بعد کون سا وظیفہ پڑھتا رہے کہ لڑکی والے نکاح کے لیے مان جائیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکے کو چاہیے کہ والدین کو مناسب طریقے سے اپنی چاہت بتا ئے ،اور والدین کے ذریعے سے ہی نکاح کا پیغام بھیجنا زیادہ مناسب ہے ،نیز اس  کے ساتھ نمازوں کا ا ہتمام کرتے ہوئے، اللہ تبارک وتعالیٰ سے  رجوع کاسلسلہ جاری رکھے،  اور  "یَا وَدُودُ "  کثرت سے پڑھتارہے ۔نیز درجِ ذیل اذکار بھی پڑھتارہے:

{ رَبِّ إِنِّي لِمَاأَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ} کا کثرت سے ورد کرے۔

2۔نمازِ عشاء  کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اوردرمیان میں گیارہ سومرتبہ "یاَلَطِیْفُ"پڑھ کراللہ تعالیٰ سے دعاکرنا بھی مجرب ہے۔

3۔نمازِ عشاء کے بعد تنہائی میں دو رکعت صلاۃ الحاجت پڑھ کر اُس کے بعد اول وآخر 7 دفعہ درود شریف اور درمیان میں "یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیِْر یَا بَدِیْعُ"101 مرتبہ پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا کیاکرے۔

4۔روزانہ سورۂ "یٰس" کی تلاوت کر نے  کے بعد اللہ تعالٰی سے یقین کے ساتھ دعا کیا کرے۔

نیز یہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ جب تک نکاح نہیں ہو تا دونوں کا آپس میں کسی قسم کا تعلق وروابط قائم کرنا ہر گز جائز نہیں ہے اور نکاح سے پہلے اجنبیہ غیر محرم لڑکی کا تصور ذہن میں لاکر تلذذ حاصل کرنابھی  نا جائز ہے۔

کنز العمال میں ہے:

"اقرأوا "يس"؛ فإن فيها عشر بركات ما قرأها جائع إلا شبع وما قرأها عار إلا اكتسى وما قرأها أعزب إلا تزوج وما قرأها خائف إلا أمن وما قرأها محزون إلا فرح وما قرأها مسافر إلا أعين على سفره وما قرأها رجل ضلت له ضالة إلا وجدها وما قرئت على ميت إلا خفف عنه وما قرأها عطشان إلا روی وما قرأها مريض إلا برء."

(حرف الهمزة، الكتاب الثاني من حرف  الهمزة في الأذكار من قسم الأقوال، الباب السابع في تلاوة القرآن وفضائله، الفصل الثاني في فضائل السور،  فضائل السور الباقية من الإكمال، ج:ص:590-589،  ط: مؤسسة الرسالة)

آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:

" نماز عشاء کے بعد اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اور درمیان میں گیارہ سو مرتبہ "یا لطیف" پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا کریں، اللہ رب العزت آپ کی مشکل آسان فرمائے۔"

( اوراد و وظائف، بعنوان: رشتہ کے لیے وظیفہ،ج:4، ص:251،  ط: مکتبہ لدھیانوی )

وفيه ايضاً:

"رشتہ کے لیے وظیفہ:

سوال: میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری ایک بیٹی ہے، جس کا رشتہ کافی سالوں کی کوشش کے باوجود نہیں ہورہا ہے، میری خواہش ہے کہ اس کا رشتہ کسی صالح اور دین گھرانے میں ہوجائے، اُس کے لیے کوئی وظیفہ ارشاد فرمائیں۔۔۔۔۔

جواب: دل سے دعا کرتا ہوں، نماز عشاء کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اور درمیان میں گیارہ سو مرتبہ "یاَلَطِیْفُ" پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا کریں، اللہ رب العزت آپ کی مشکل کو آسان فرمائے''۔ 

(اوراد و وظائف، عنوان: رشتہ کے لیے وظیفہ، ج:4، ص:21، ط : مکتبہ لدھیانوی)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

"شادی ہونے کے لیے عمل:

سوال: حنیف خان کا لڑکا معین خان ہے، جو اس وقت بالغ ہے، لیکن ایک آنکھ خراب ہونے کی وجہ سے اس کی شادی نہیں ہوتی ہے، آپ دعا کیجیے، اور ایک تعویذ لکھ لیجیے۔

الجواب حامدًا ومصلیًا: معین کو بتادیں کہ وہ بعد عشاء تنہائی میں دو رکعت نمازِ حاجت پڑھ کر "یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیِْر یَا بَدِیْعُ" 101 دفعہ ، اول آخر درود شریف 7 دفعہ پڑھ کر دعاء کیا کریں، حق تعالٰی کا میاب فرمائے۔فقط واللہ اعلم"

(بقیۃ کتاب الحظر والا باحۃ، باب مایتعلق بالسحرۃ والعوذۃ، الفصل الثالث فی العملیات والوظائف والاوراد، شادی ہونے کے لیے عمل،ج:20ص:89-90،  ط: ادار ۃ الفاروق)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507102041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں