بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے وقت مہر طے نہیں ہوا تو مہر کا حکم


سوال

میری شادی کو 2 سال ہو گئے ہیں اور میرے سسرال والوں نے مجھ سے خالی نکاح نامے پہ  دستخط کروا لیے،بعد میں انہوں نے اپنی مرضی سے حق مہر لکھ دیا ۔ نہ انہوں نے ہمارے ساتھ کوئی مشاورت کی ، نہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ چیزیں لکھ رہے ہیں،  جو میری حیثیت  سے بہت زیادہ  ہیں،  اب آئے دن میری بیوی اوراس کے بھائی مجھے دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ 

جواب

واضح رہے کہ مہر عورت کا شرعی حق ہے اور مہر کی رقم طے کرنے کا معاملہ شریعت نے جانبین کی رضامندی پر رکھا ہے۔ لڑکی اور لڑکے والے باہمی مشورے سے جو مہر طے کرلیں شریعت نے اسی کا اعتبار کیا ہے بشرطیکہ وہ مہر دس درھم سے کم نہ ہو جس کی مقدار 30.618 گرام  چاندی ہے۔ اور مہر کی رقم طے نہ کرنے کی صورت میں مہرِ مثل کو معتبر مانا گیا ہے۔  یعنی اس لڑکی کے باپ کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو مال، جمال، دین، عمر، عقل، زمانہ، شہر، باکرہ یا ثیبہ وغیرہ  ہونے میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر  تھا،  اس کا بھی  اتنا ہی مہر مانا جاۓگا۔

لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں اگر نکاح کے وقت مہر کی کوئی رقم طے نہیں کی گئی تھی تو یہ طے نہ کرنا شوہر کی طرف سے مہر مثل پر رضامندی ظاہر سمجھی جاۓ گی اور اگر لڑکی والے جس مہر کا مطالبہ کررہے ہیں اگر وہ لڑکی کا مہر مثل ہے تو شوہر پر وہ مہر دینا شرعًا لازم  ہے ۔ اور اگر وہ مہر مثل سے زیادہ کا مطالبہ کررہے ہیں تو اُن کا یہ مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے ، ایسی صورت میں شوہر پر صرف مہر مثل کی دائیگی لازم ہے۔ 

البتہ لڑکی کے بھائیوں کا اس طرح زورو  زبردستی کرنا اور اپنی بہن کے شوہر کو دھمکیاں دیناانتہائی نامناسب عمل ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور اگر شوہر واقعتًا ادائیگی کی وسعت نہیں رکھتا تو شوہر کو مہلت دے دینی چاہیے اور شوہر مہر کی رقم کو تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کرسکتا ہے تو اُسے اس کی بھی گنجائش دینی چاہیے؛ تاکہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات میں دراڑ نہ پڑے، اور یہ ازدواجی رشتہ کمزوری کا شکار نہ ہوجاۓ۔

در مختار میں ہے :

"أقله عشرة دراهم؛ لحدیث البیهقي وغیره: لا مهر أقل من عشرة دراهم … ویجب الأكثر أي بالغاً ما بلغ منها إن سمیٰ الأکثر."

(الدر المختار مع الشامي، کتاب النکاح، باب المھر،۳/۱۰۱- ۱۰۲)

قال في الدر:

"(وَ) الْحُرَّةُ (مَهْرُ مِثْلِهَا) الشَّرْعِيُّ (مَهْرُ مِثْلِهَا) اللُّغَوِيُّ: أَيْ مَهْرُ امْرَأَةٍ تُمَاثِلُهَا (مِنْ قَوْمِ أَبِيهَا) لَا أُمِّهَا إنْ لَمْ تَكُنْ مِنْ قَوْمِهِ كَبِنْتِ عَمِّهِ. وَفِي الْخُلَاصَةِ: يُعْتَبَرُ بِأَخَوَاتِهَا وَعَمَّاتِهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَبِنْتُ الشَّقِيقَةِ وَبِنْتُ الْعَمِّ انْتَهَى وَمَفَادُهُ اعْتِبَارُ التَّرْتِيبِ فَلْيُحْفَظ."

[الدر مع الرد : ٣/ ١٣٧] 

فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144212201972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں