بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے موقع پر دولہے کو سسرال کی جانب سے ملنے والے ہدایا کا حکم


سوال

زید کا نکاح ۸ سال قبل ہوا ، نکاح میں اُسے ایک دو پہیہ( Two wheeler)  گاڑی بھی بنام ہدیہ جہیز میں ملی تھی جو اُس وقت کسی مجبوری  کی وجہ سے قبول کی گئی۔ جس کی قیمت اُس وقت تقریبًا ۶۰ ہزار روپے تھی۔اب آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

۱۔جہیز میں ملی رقم، گاڑی وغیرہ کا لوٹانا لازمی ہے؟

۲۔ گاڑی کے بدلہ گاڑی ہی دینا چاہیے یا موجودہ  قیمت(۷۵ ہزار ) دیں؟

۳- اگر سسرال والے لینےسے انکار کریں اور کہیں کہ ہماری طرف سے ہدیہ ہی تھا تو کیا اُن کی بات کا اعتبار کیا جائے گا؟

۴-  اگر جہیز کی وہ چیز والدین کے علاوہ کسی اور ( چچا، خالہ وغیرہ ) نے دی ہو تو؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زید کے نکاح کے موقع پر سسرال کی جانب سے زید کو گاڑی بطورِ ہدیہ دی گئی تھی اور زید نے اُس گاڑی پر قبضہ بھی  کرلیا تھا تو یہ گاڑی زید کی ہوگئی،  اب اس کو واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690):

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201937

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں