بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے فون پر بات کرنا


سوال

 میرے نکاح کو تقریبأ ایک سال ہونے والا ہے  اور رخصتی نہیں ہو ئی تو  کیا میرا اپنے خاوند سے بات کرنا جائز ہے؟  اگر جائز ہے تو دن وقت کی کوئی قید ہے کہ اتنی دیر بات کرنی ہے،  اس سے زیادہ نہیں؟

جواب

باقاعدہ نکاح ہوجانے کے  بعد اپنی منکوحہ سے ملنا، اس سے باتیں کرنا  شرعاً جائز ہے، اس کے لیے کسی دن وقت یا دورانیہ کی قید نہیں ہے،  البتہ باقاعدہ رخصتی سے پہلے تنہائی میں ملنا یا  باتیں  کرنا بعض خاندانوں  میں معیوب سمجھاجاتاہے، اس لیے اپنے خاندان و گھرانہ کے عرف کو سامنے رکھا جائے، بسااوقات یہ بڑے فساد کاذریعہ بن جاتاہے۔ اور کوئی شرعی مانع نہ ہو تو حتی الامکان جلد رخصتی کا اہتمام کیا جائے۔

"(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي". (فتاوی شامی، ۳/۳، سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201260

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں