بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نکاحِ فاسد میں متارکت کے الفاظ، مال داری میں عام آدمی اور عالم/مدرس کی عورت کے ساتھ کفاءت کی تفصیل


سوال

1۔ ایک شخص نے نکاحِ فاسد میں عورت کو یہ الفاظ کہہ کر متارکت کی کہ " آپ سے جماع نہیں کروں گا"، اگر دل میں جماع کا ارادہ ہو تو کیا یہ متارکت کے منافی ہے؟

2۔ایک عالم شخص اگر بیوی کے نفقہ پر قادر ہو لیکن مہر معجّل کی ادائیگی پر قادر نہ ہو تو کیا وہ مال دار عورت کا کفو ہوگا؟ اور کسی مال دار خاندان کی لڑکی سے نکاح کرنے کی صورت میں اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل ہوگا یا نہیں؟

3۔ ایک شخص کے پاس نقد رقم نہیں کہ اس سے بیوی کا نفقہ اور مہرِ معجّل دے سکے، لیکن زمین ہے جس کو بیچ کر نفقہ اور مہرِ معجل ادا کرسکتا ہے، تو اگر بوقتِ نکاح وہ زمین فروخت نہ کی ہو تو کیا نقد رقم نہ ہونے کی صورت میں کفاءت کے لیے اس زمین کا ملکیت میں ہونا کافی ہوگا یا نہیں؟

جواب

1۔متارکت کے الفاظ اور جملے جو فقہاءِ کرام نے بیان کیے ہیں وہ یہ ہیں"میں نے آپ کو چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کا راستہ چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کو طلاق دی" وغیرہ۔ لہٰذا نکاحِ فاسد کی صورت میں یہ کہنے سے کہ "میں آپ سے جماع نہیں کروں گا" متارکت نہیں ہوگی؛ کیوں کہ یہ متارکت کے الفاظ نہیں ہیں۔

2۔’’کفو‘‘ کا معنی ہے: ہم سر، ہم پلہ، برابر۔ انسانی عقل کا تقاضا اور تجربہ یہ ہے کہ اگر شوہر نسب، دین داری، شرافت، پیشے اور مال داری میں بیوی کے ہم پلہ یا اس سے بڑھ کر نہ ہو تو عموماً  نکاح کے حقیقی مصالح و دیرپا مقاصد کا حصول مشکل ہوجاتاہے، بیوی کے اولیاء کے لیے بھی اس میں عار ہوتی ہے اور بسا اوقات اس کے برعکس شوہر کو ساری زندگی جھک کر رہنا پڑتاہے؛ اس لیے شریعت نے فطری جذبے کا لحاظ رکھتے ہوئے کچھ بنیادی اور اہم باتوں میں  برابری کو ملحوظ رکھاہے۔

اگرلڑکااورلڑکی نسب، مال ،دِین داری ،شرافت اورپیشے میں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں تویہ دونوں ایک دوسرے کے ’’کفو‘‘  قرار پائیں گے، ان کاباہمی رضامندی کے ساتھ  نکاح درست ہے۔   اور اگر لڑکا اور لڑکی کے درمیان مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق برابری نہ ہو تو اسے ان دونوں کا آپس میں ’’غیر کفو‘‘  (یعنی ہم پلہ نہ)  ہونا قرار دیا جائے گا۔ اگر ولی(والد یا دادا وغیرہ) اور عورت اس رشتے پر راضی ہوں خواہ وہ رشتہ ہم سر نہ ہو تو بھی نکاح جائز ہے۔ اور اگر عورت اولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرلے تو اولاد پیدا ہونے سے پہلے تک اولیاء کو یہ نکاح فسخ کرانے کا حق ہوتاہے۔

مال داری  میں کفو کا مطلب یہ ہے کہ لڑکا  ، لڑکی کے مہر معجل کی ادائیگی پر قادر ہو، اور اس کا  نان ونفقہ (خرچہ وغیرہ) یومیہ یا ماہانہ بنیادوں پر اٹھاسکتا ہو، اس لیے کہ جو شخص اپنی بیوی کے نان و نفقہ اور مہرِ معجّل کی ادائیگی پر قادر نہ ہو اسے معاشرے میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، لہٰذا جو شخص اپنی بیوی کے نان و نفقہ اور مہرِ معجّل کی ادائیگی پر قادر نہ ہو وہ مال دار خاندان کی عورت کا کفو نہیں ہوگا اور عورت کے اولیاء کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنے کی صورت میں اولیاء کو اولاد پیدا ہونے سے پہلے تک اس نکاح پر اعتراض اور بذریعہ قاضی اس نکاح کو فسخ کروانے کا حق حاصل ہوگا، لیکن فقہاء کرام نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ اگر کوئی عالم اور مدرّس (دینی علوم پڑھانے والا شخص) صرف بیوی کے نان و نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو لیکن مہرِ معجّل کی ادائیگی پر قادر نہ ہو تو وہ بھی مال دار خاندان کی لڑکی کا کفو (ہم سر) ہوگا، کیوں کہ غربت کی وجہ سے جو عار لاحق ہونی تھی وہ عالم ہونے اور شرعی علوم پڑھانے کی فضیلت کی وجہ سے ختم ہو جائے گی، کیوں کہ علوم نبوّت کے حامل عالمِ باعمل شخص کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے چاہے وہ انتہائی غریب ہی کیوں نہ ہو، البتہ عالم اور مدرس کے لیے بھی مال دار لڑکی کا کفو ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم بیوی کے نان و نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو؛ کیوں کہ نان و نفقہ کی ادائیگی کے بغیر تو رشتہ ازدواج کا قیام اور نکاح کے مصالح کا حصول ہی متعذر ہے، البتہ مہر کے معاملے چوں کہ تاخیر سے ادائیگی کی بھی گنجائش ہوتی ہے اس لیے عالم با عمل اور شرعی علوم کی تدریس کا شرف حاصل ہونے کی صورت میں عقدِ نکاح کے وقت مہرِ معجّل کی ادائیگی پر قادر ہونا شرط نہیں ہے، اس لیے کہ مال تو آنے جانے والی چیز ہے، ایک دن کوئی غریب ہوتا ہے تو اگلے دن مال دار ہوجاتا ہے اور کبھی اس کے برعکس بھی ہوجاتا ہے، پس اگر کوئی عالم/ مدرس کسی مال دار خاندان کی عورت سے اولیاء کی رضامندی کے بغیر نکاح کرلے اور وہ عورت کے نان و نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو تو وہ اس عورت کا کفو شمار ہوگا چاہے وہ مہرِ معجّل کی ادائیگی پر قادر نہ ہو، اس لیے کہ فی الحال گزارہ کے لیے نان و نفقہ کی ادائیگی ناگزیر ہے، باقی مہر تو مؤجّل (تاخیر سے) بھی ادا کیا جاسکتا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں عورت کے اولیاء کو اس نکاح پر اعتراض کرنے اور بذریعہ قاضی اس نکاح کو فسخ کروانے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ 

3۔ مال دار عورت کا کفو ہونے کے لیے مرد کے پاس عقدِ نکاح کے وقت بیوی کے نفقہ اور مہرِ معجّل کی ادائیگی کے لیے نقد رقم کا ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ اگر عقدِ نکاح کے وقت مرد کے پاس کوئی زمین ملکیت میں موجود ہو جس کو بیچ کر بیوی کے نان و نفقہ کا انتظام کرسکتا ہو تو بھی ایسا مرد مال دار عورت کا کفو شمار ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح

(قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول. وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا يتحقق إلا بالقول. اهـ".

(كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في النكاح الفاسد،3/ 132، ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"«والتفريق في النكاح الفاسد إما بتفريق القاضي أو بمتاركة الزوج ولا يتحقق الطلاق في النكاح الفاسد بل هو متاركة فيه ولا تحقق للمتاركة إلا بالقول إن كانت مدخولا بها كقوله تاركتك أو تاركتها أو خليت سبيلك أو خليت سبيلها أو خليتها، وأما غير المدخول بها فتتحقق المتاركة بالقول وبالترك عند بعضهم وهو تركها على قصد أن لا يعود إليها وعند البعض لا تكون المتاركة إلا بالقول فيهما حتى لو تركها ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر".

(كتاب النكاح، باب المهر، 3/ 185، ط: دار الكتاب الاسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ومالا) بأن يقدر على المعجل ونفقة شهر لو غير محترف، وإلا فإن كان يكتسب كل يوم كفايتها لو تطيق الجماع (وحرفة) فمثل حائك غير كفء لمثل خياط ولا خياط لبزاز وتاجر ولا هما لعالم وقاض ....... وذو تدريس أو نظر كفء لبنت الأمير بمصر بحر.

(قوله: ومالا) أي في حق العربي والعجمي كما مر عن البحر لأن التفاخر بالمال أكثر من التفاخر بغيره عادة وخصوصا في زماننا هذا بدائع. (قوله: بأن يقدر على المعجل إلخ) أي على ما تعارفوا تعجيله من المهر، وإن كان كله حالا فتح فلا تشترط القدرة على الكل، ولا أن يساويها في الغنى في ظاهر الرواية وهو الصحيح زيلعي، ولو صبيا فهو غني بغنى أبيه أو أمه أو جده كما يأتي وشمل ما لو كان عليه دين بقدر المهر، فإنه كفء لأن له أن يقضي أي الدينين شاء كما في الولوالجية وما لو كانت فقيرة بنت فقراء كما صرح به في الواقعات معللا بأن المهر والنفقة عليه فيعتبر هذا الوصف في حقه وما لو كان ذا جاه كالسلطان والعالم قال الزيلعي: وقيل يكون كفؤا وإن لم يملك إلا النفقة لأن الخلل ينجبر به ومن ثم قالوا الفقيه العجمي كفء للعربي الجاهل.......فأفاد أن الحرف إذا تقاربت أو اتحدت يجب اعتبار التكافؤ من بقية الجهات فالعطار العجمي غير كفء لعطار أو بزاز عربي أو عالم تقي، النظر في نحو دباغ أو حلاق عربي، هل يكون كفؤا لعطار أو بزاز عجمي. والذي يظهر لي أن شرف النسب أو العلم يجبر نقص الحرفة بل يفوق سائر الحرف، فلا يكون نحو العطار العجمي الجاهل كفؤا لنحو حلاق عربي أو عالم ويؤيده ما في الفتح أنه روي عن أبي يوسف أن الذي أسلم بنفسه أو عتق إذا أحرز من الفضائل ما يقابل نسب الآخر كان كفؤا له اهـ فليتأمل ..... (قوله:ولا هما لعالم وقاض) قال في النهر وفي البناية عن الغاية الكناس والحجام والدباغ والحارس والسائس والراعي والقيم أي البلان في الحمام ليس كفؤا لبنت الخياط ولا الخياط لبنت البزاز والتاجر ولا هما لبنت عالم وقاض.....قال ط: وأطلقوا في العالم والقاضي ولم يقيدوا العالم بذي العمل، ولا القاضي بمن لا يقبل الرشوة والظاهر التقييد لأن القاضي حينئذ ظالم ونحوه العالم غير العالم وليحرر اهـ. قلت: لعلهم أطلقوا ذلك لعلمه من ذكرهم الكفاءة في الديانة فالظاهر حينئذ أن العالم والقاضي الفاسقين لا يكونان كفأين لصالحة بنت صالحين لأن شرف الصلاح فوق شرف العلم والقضاء مع الفسق ...... (قوله: فذو تدريس) أي في علم شرعي .... (قوله: كفء لبنت الأمير بمصر) لا يخفى أن تخصيص بنت الأمير بالذكر للمبالغة أي فيكون كفؤا لبنت التاجر بالأولى، فيفيد أن الأمير أشرف من التاجر كما هو العرف، وهذا مؤيد لبحثنا السابق كما نبهنا عليه".

(كتاب النكاح، باب الكفاءة،3/ 90، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها المال، فلا يكون الفقير كفئا للغنية۔۔۔وقال بعضهم: إذا كان الرجل ذا جاه كالسلطان والعالم، فإنه يكون كفئا، وإن كان لا يملك من المال إلا قدر النفقة لما ذكرنا أن المهر تجري فيه المسامحة بالتأخير إلى وقت اليسار، والمال يغدو، ويروح، وحاجة المعيشة تندفع بالنفقة".

(كتاب النكاح، فصل في كفاءة الفقير للغنية في النكاح،2/ 319، ط:دار الكتب العلمية)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں