بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

نکاح اور زنا میں فرق


سوال

زنا  اور نکاح میں کیا فرق ہے؟

جواب

واضح رہے کہ توالد و تناسل کے ذریعہ انسانی  نسل کی بقا، دنیا کے نظام کو باقی رکھنے اور مرد اور عورت کي عفت وپاکدامنی کے حصول کے لیے   شریعت مطہرہ نے  ”نکاح “  كو مشروع کیا ہے، یہ انسانی فطرت  کے ایک ضروری تقاضے کو جائز طریقے  سے پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،   نکاح  مرد و عورت کی باہمی رضامندی سے، نکاح کی مجلس میں  دو گواہوں کی موجودگی میں مہر مقرر کرکے ، ایجاب وقبول    کے ذریعے  عقد کرنے کا نام ہے، اس کی باقاعدہ  تشہیر  کرنے کا حکم ہے۔ جب کہ  زنا ، نکاح کے بغیر ، مرد و عورت کے جنسی تعلق قائم کرنے کو کہتے ہیں، نکاح اور زنا میں بہت سے فرق ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1: نکاح کو اللہ تعالیٰ نےجائز قرار دیا ہے، جب کہ زنا کو اللہ تعالیٰ  نے حرام  اور کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔

2:  نکاح سے حاصل ہونے والا تعلق صرف جنسی خواہش کی تکمیل نہیں،بلکہ نکاح  جسم وروح کا باہمی رشتہ ہے، اس مقدس رشتے میں میاں بیوی ایک دوسرے سے  ہمیشہ وابستہ رہنے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا عہد وپیمان کرتے ہیں،میاں بیوی کے اس قدر گہرے تعلق کو قرآنِ کریم نے یوں بیان کیا ہے کہ زوجین کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیاہے، جب کہ زنا   سے مقصود  صرف ہوس رانی، اور  جنسی لذت  کی حصول یابی اورجوش محبت کی وقتی تسکین ہوتی ہے اس میں نہ تو کوئی پاکیزگی ہے اور نہ ہی ایک دوسرے پر کوئی ذمہ داری عائد ہے۔

3:  نکاح کا رشتہ  عفت و پاک دامنی کا سبب اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے، جب کہ ”زنا“ خود کبیرہ گناہ ہے۔

4: نکاح کے مقاصد میں سے ایک عظیم مقصد نسل انسانی  کی حفاظت  اور بقا ہے۔ ”مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ“  میں ہے کہ: ”نکاح کی مشروعیت اور اس کی ترغیب اور اس کو  فطری طریقہ قرار دینے کی وجہ یہی ہے کہ  نوعِ انسانی کی حفاظت ہو  اور ایسی نیک صالح اولاد  کا وجود ہو جو اس عالم کی تعمیر کر سکے ،انسانی زندگی کو بنا سکے اور خلافت کی چادر کو سنبھال  سکے،  تاکہ اپنے بعد والے کو یہ امانت حوالہ کردے،اور یہ سلسلہ جاری ہے یہاں تک کہ انسان ہمیشہ ہمیشہ والی زندگی میں داخل ہوجائے“۔ جب کہ” زنا“   سے  ہر گز یہ  مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اگر اس کے ذریعے حمل ٹھہر بھی جائے تو اس کا قتل کردیا جاتا ہے۔

5: نکاح   کے ذریعہ حاصل ہونے والا  رشتہ مستحکم و پائیدار ہونے کے ساتھ معاشرہ میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے،  اس کے برخلاف” زنا“ کے ذریعہ جنسی تعلق قائم کرنا گندا ، ناپائیدار ہونے کے ساتھ صرف شہوت پورا کرنے  کا بدترین طریقہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے گندا،  برا  اور گناہ کا راستہ بتلایا ہے،  ہرمذہب، قوم، معاشرہ میں اسے بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

6: نکاح انبیاء کی سنت ہے، زنا فسّاق و فجار کا طریقہ ہے۔

7: نکاح میں عورت کی عزت ہے، جب کہ زنا میں عورت کی تذلیل ہے، کیوں کہ اس تعلق کا مقصد صرف اور صرف   اپنی خواہش کی تکمیل ہے، پھر جب اس کی جوانی ڈھل جاتی ہے تو سب اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله: هن لباس لكم وأنتم لباس لهن قال ابن عباس ومجاهد وسعيد بن جبير والحسن وقتادة والسدي ومقاتل بن حيان: يعني هن سكن لكم وأنتم سكن لهن، وقال الربيع بن أنس: هن لحاف لكم وأنتم لحاف لهن، وحاصله: أن الرجل والمرأة كل منهما يخالط الآخر ويماسه ويضاجعه، فناسب أن يرخص لهم في المجامعة في ليل رمضان لئلا يشق ذلك عليهم ويحرجوا."

(ج:1،ص:375، ط:دار الکتب العلمیة)

 روح المعاني ميں هے:

"{ وابتغوا مَا كَتَبَ الله لَكُمْ } أي اطلبوا ما قدره الله تعالى لكم في اللوح من الولد ، وهو المروي عن ابن عباس والضحاك ومجاهد  رضي الله تعالى عنهم وغيرهم . والمراد الدعاء بطلب ذلك بأن يقولوا : اللهم ارزقنا ما كتبت لنا ، وهذا لا يتوقف على أن يعلم كل واحد أنه قدر له ولد ، وقيل : المراد ما قدره لجنسكم والتعبير بما نظراً إلى الوصف كما في قوله تعالى : { والسماء وَمَا بناها } [ الشمس : 5 ] وفي الآية دلالة على أن المباشر ينبغي أن يتحرى بالنكاح حفظ النسل لا قضاء الشهوة فقط لأنه سبحانه وتعالى جعل لنا شهوة الجماع لبقاء نوعنا إلى غاية كما جعل لنا شهوة الطعام لبقاء أشخاصنا إلى غاية ، ومجرد قضاء الشهوة لا ينبغي أن يكون إلا للبهائم."

(ج:1،ص:462، ط:دار الکتب العلمیة)

تفسیر راغب ميں هے :

"وقوله تعالى: {وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ} إشارة في تحري النكاح إلى لطيفة، وهي أن الله تعالى جعل لنا شهوة النكاح لبقاء نوع الإنسان إلى غاية، كما جعل لنا شهوة الطعام لبقاء أشخاصنا إلى غاية، فحق الإنسان أن يتحرى بالنكاح ما جعل الله لنا سعلى حسب ما يقتضيه العقل والديانة، فمتى تحرى به حفظ النسل وحصن النفس على الوجه المشروع، فقد ابتغى ما كتب الله له."

 (ج:1،ص:399، ط: كلية الآداب - جامعة طنطا)

مقاصد الشريعة الاسلامية ميں هے:

"رابعاً :حفظ النسل ويراد به حفظ النوع الإنساني على الأرض بواسطة التناسل ذلك أن الإسلام يسعى إلى استمرار المسيرة الإنسانية على الأرض حتى يأذن الله بفناء العالم ويرث الأرض ومن عليها . ومن أجل تحقيق هذا المقصد شرع الإسلام المبادئ والتشريعات التالية:

شريعة الزواج : فقد شرع الإسلام الزواج ورغب فيه واعتبره الطريق الفطري النظيف الذي يلتقي فيه الرجل بالمرأة لا بدوافع غريزية محضة ولكن بالإضافة إلى تلك الدوافع ، يلتقيان من أجل تحقيق هدف سام نبيل هو حفظ النوع الإنساني وابتغاء الذرية الصالحة التي تعمر العالم وتبني الحياة الإنسانية وتتسلم أعباء الخلافة في الأرض لتسلمها إلى من يخلف بعدها حتى يستمر العطاء الإنساني وتزدهر الحضارة الإنسانية في ظل المبادئ النبيلة والقيم الفاضلة."

(ج:1،ص:24، ط: الكتاب منشور على موقع وزارة الأوقاف السعودية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144311101018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں