بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نجاست دھوتے وقت کلمہ پڑھنے کا حکم


سوال

اگر جسم یا کپڑے پر نحاست لگ جائے تو پانی سے دھوتے وقت کون سا کلمہ پڑھنا چاہیے؟

جواب

جسم یا کپڑے پر نجاست لگ جانے کی صورت میں ان کو دھوتے وقت کوئی بھی کلمہ یا کوئی اور ذکر نہیں کرنا چاہیے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر کلمہ نہ پڑھا جائے تو ناپاکی دور نہیں ہوتی، ان کا قول درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"ويستحب أن لايتكلم بكلام مطلقاً، أما كلام الناس؛ فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء؛ فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال."

(كتاب الطهارة،1/ 156،ط:سعيد)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

"يطهر محل النجاسة "غير المرئية بغسلها ثلاثا" وجوبا وسبعا مع الترتيب ندبا في نجاسة الكلب خروجا من الخلاف "والعصر كل مرة" تقديرا لغلبة.....

يعني اشتراط الغسل والعصر ثلاثا إنما هو إذا ‌غمسه في إجانة أما إذا ‌غمسه في ماء جار حتى جرى عليه الماء أو صب عليه ماء كثيرا بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلفه غيره ثلاثا فقد طهر مطلقا بلا اشتراط عصر وتجفيف وتكرار ‌غمس هو المختار والمعتبر فيه غلبة الظن هو الصحيح كما في السراج ولا فرق في ذلك بين بساط وغيره وقولهم يوضع البساط في الماء الجاري ليلة إنما هو لقطع الوسوسة."

(كتاب الطهارة،باب الانجاس والطهارة عنها،ص161،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں