بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نفاس کی وجہ سے چھوڑے گئے روزوں کا حکم


سوال

کیا نفاس کی وجہ سے چھوڑے گئے روزوں کی قضا ہے؟

جواب

نفاس کا حکم بھی روزے اور نماز کے  متعلق حیض کی طرح ہے، یعنی جس طرح حیض کی وجہ سے چھوڑے گئے روزوں کی قضا لازم ہے، اسی طرح نفاس کی وجہ سے چھوڑے گئے روزوں کی قضا بھی لازم ہے، جب کہ ان نمازوں کی قضا لازم نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 290):

"(يمنع صلاة)  مطلقًا ولو سجدة شكر (وصومًا) وجماعًا (وتقضيه) لزومًا دونها للحرج.

"(قوله: وتقضيه) أي الصوم على التراخي في الأصح، خزائن، وعزاه في هامشها إلى منلا مسكين وغيره". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 299):

"وحكمه كالحيض في كل شيء إلا في سبعة ذكرتها في الخزائن وشرحي للملتقى.

(قوله: إلا في سبعة) هي البلوغ والاستبراء والعدة، وأنه لا حد لأقله، وأن أكثره أربعون، وأنه يقطع التتابع في صوم الكفارة، وأنه لايحصل به الفصل بين طلاقي السنة والبدعة. اهـ".

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144202200392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں