بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نفاس کی حالت میں ہم بستری کرنا


سوال

حالت نفاس میں اپنے بیوی سے کنڈم لگا کر ہمبستری کرسکتا ہوں ؟

جواب

حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے ہم بستری کرنا جائز نہیں ہے، اگرچہ اس کے لیے آدمی کوئی بھی صورت اختیار کرے، لہذا کنڈوم کے استعمال یا کسی اور صورت کے ذریعہ حیض و نفاس کے ایام میں بیوی سے مجامعت حرام ہے۔

اگر کوئی شخص اس غلطی کا ارتکاب کرچکا ہو تو اسے توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور حسب استطاعت کچھ صدقہ بھی کرنا چاہیے۔

البتہ نفاس کی مدت سے متعلق یہ تفصیل مدنظر رہے:

نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اور کم سے کم مدت  کی کوئی حد نہیں،  اگر کسی کو ایک آدھ گھڑی خون آکر بند ہو جائے تو وہ بھی نفاس ہے،  لہذا اگر کسی عورت کو بچہ کی ولادت کے بعد چالیس دن کے اندر اندر خون آئے تو وہ نفاس کا ہے،  اور چالیس دن کے اندر اندر خون آنا بند ہوجائے تو وہ پاک سمجھی جائے گی، چالیس دن یا سوا مہینہ  تک ناپاک نہیں شمار ہوگی، اور چالیس دن سے بڑھ جائے تو اگر اس کا پہلا بچہ ہے تو چالیس دن نفاس کا خون ہوگا، اور اس کے بعد آنے والا خون بیماری کا کہلائے گا، اور اگر اس کا پہلے سے کوئی بچہ ہے تو اس کی جتنے دن خون آنے کی عادت ہے اتنے دن کا خون نفاس شمار ہوگا اور باقی بیماری کا خون شمار ہوگا۔

صورتِ مسئولہ  میں اگر نفاس کا خون چالیس دن پورے ہونے پر  بند ہو تو  شوہر کے لیے بیوی سے ہم بستری کرنا جائز ہوگا، اگرچہ غسل نہ کیا ہو، تاہم بہتر یہی ہے کہ غسل کرنے کے بعد ہم بستری کی جائے۔

اور اگر اس عورت کی پہلے سے نفاس کی عادت متعین ہے اور وہ مکمل ہوجانے کے بعد خون بند ہوا ہے تو عورت کے غسل کرنے کے بعد یا ایک فرض نماز کا وقت گزرجانے کے بعد  شوہر کے لیے ہم بستری کرنا جائز ہوگا۔

المبسوط للسرخسي- (12 / 383):

فأما جماع الحائض في الفرج حرام بالنص يكفر مستحله ويفسق مباشره لقوله تعالى: { فاعتزلوا النساء في المحيض } وفي قوله تعالى: { ولاتقربوهن حتى يطهرن } دليل على أن الحرمة تمتد إلى الطهر وقال صلى الله عليه وسلم: { من أتى امرأة في غير مأتاها أو أتاها في حالة الحيض أو أتى كاهنًا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل الله على محمد صلى الله عليه وسلم } ولكن لا يلزمه بالوطء سوى التوبة والاستغفار ومن العلماء من يقول: إن وطئها في أول الحيض فعليه أن يتصدق بدينار وإن وطئها في آخر الحيض فعليه أن يتصدق بنصف دينار وروى فيه حديثا شاذا ولكن الكفارة لا تثبت بمثله .

فتح القدير - (1 / 166،ط:دارالفکر بیروت):

ولا يأتيها زوجها ولو أتاها مستحلًا كفر أو عالمًا بالحرمة أتى كبيرةً ووجبت التوبة ويتصدق بدينار أو بنصفه استحبابا وقيل بدينار إن كان أول الحيض وبنصفه إن وطىء في آخره۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - (1 / 80):

ولو وطئها غير مستحل عالمًا بالحرمة عامدًا مختارًا لا جاهلًا ولا ناسيًا ولا مكرهًا كبيرة فليس عليه إلا التوبة والاستغفار و يستحب أن يتصدق بدينار أو نصفه، وقيل: بدينار وإن كان في أول الحيض وبنصفه في آخره۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201201260

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں