بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1442ھ 24 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

نفا س کی اکثر مدت پر خون بند نہ ہو تونما زروزہ کا حکم


سوال

محترم مفتی صاحب السلام علیکم نفاس سے چالیس دن کے بعد بھی خون بند نہ ہوتونماز ، رمضان کے روزے رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اور کب تک رکھے ؟

جواب

نفا س کی اگر کو ئی مد ت مقرر نہیں ہےتو زیادہ زیادہ چالیس دن کی مدت نفا س کی شمار ہوگی اس کے بعد عورت پاکی حاصل کرکے نماز روزہ شروع کردے گی ، واضح رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ نفاس کی مدت چالیس دن ہی ہولیکن اگر عورت پہلے سے صاحبِ اولاد ہے اور چالیس دن سے کم میں خون بند ہونے کی عادت ہے تو عادت کے موافق دن پورے کرکے نماز روزہ شروع کردے گی۔


فتوی نمبر : 143101200015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں