بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1443ھ 26 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ولادت کے بعد کب ازدواجی تعلق قائم کیا جاسکتا ہے؟


سوال

 بچہ جنم دینے کے  کتنے  دن بعد عورت  کے ساتھ شوہر کو   ہم بستری کرنے کی اجازت ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ  بچے یا بچی  کی پیدائش کے بعد عورت کوخون آتا ہے،جس  کو شرعی اصطلاح میں  ’’نفاس‘‘ کہا جاتا ہے ، نفاس کی حالت میں عورت سے ہم بستری کرنے کی اجازت نہیں ہے،  اور   نفاس کے خون سے پاک ہونے  کے بعد عورت غسل  کرکے  وہ تمام امور بجالاسکتی ہے جو دورانِ نفاس ممنوع تھے، مثلاً نماز، روزے، تلاوت، شوہر سے ہمبستری وغیرہ۔

نیز بچے کی پیدائش کے بعد نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اور کم سے کم مدت  کی کوئی حد نہیں،  اگر کسی عورت کو بچے کی ولادت کے بعد چالیس دن کے  اندر اندر خون آنا بند ہوجائے، (مثلًا بیس، پچیس دن بعد بند ہوجائے) اور نماز کا ایک کامل وقت بھی اسی حالت میں گزرگیا توغسل کرنے کے بعد وہ پاک سمجھی جائے گی؛ لہذا وہ نماز بھی پڑھ سکتی ہے اور شوہر اس سے صحبت بھی کرسکتاہے، یعنی  نفاس کے ایام کا چالیس دن تک ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس کی مزید تفصل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

بچے کی ولادت کے بعد عورت کے ساتھ ہم بستری کب تک منع ہے؟

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها، أما حرمة وطئها عليه فمجمع عليها؛ لقوله تعالى: {ولا تقربوهن حتى يطهرن} [البقرة: 222] ووطؤها في الفرج عالماً بالحرمة عامداً مختاراً كبيرة، لا جاهلًا و لا ناسيًا و لا مكرهًا فليس عليه إلا التوبة و الاستغفار".

(كتاب الطهارة، باب الحیض، ج:1، ص:207، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية) میں ہے:

"أقل النفاس ما يوجد ولو ساعة و عليه الفتوى وأكثره أربعون. كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس، هكذا في المحيط."

(كتاب الطهارة، الفصل الثانى فى النفاس، ج:1، ص:37، ط:مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200074

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں