بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

نیٹ ورک مارکٹنگ میں ریفرل بونس کا حکم


سوال

نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنیز کے اندر ہر نیا ممبر جوائن کروانے سے جو پرافٹ ملتا ہے جس کو ریفرل بونس کہا جاتا ہے، یہ بونس کمپنی اپنی طرف سے دیتی ہے، نئے آنے والے ممبر سے اس کی کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہوتی،  کیا ایسا بونس لینا شرعی لحاظ سے جائز ہے!

جواب

نیٹ ورک مارکٹنگ کے عدمِ  جواز کی وجوہات میں سے ایک سبب ریفرل بونس ( یعنی ممبر در ممبر در ممبر بنانے کی وجہ سے پہلے ممبر جس کے توسط سے چین بنی ہے کو بھی بونس ملنا) بھی ہے، شریعتِ مطہرہ نے اس قسم کے نفع کو ناجائز قرار دیا ہے، لہذا ایسے کسی بھی ادارے سے وابستگی شرعاً جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

ضروری تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

ٹائنز نامی کمپنی کی ممبرشپ حکم


فتوی نمبر : 144107201015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے