بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نیلے پین سے لکھنا اور بادشاہوں کے خطوط


سوال

کیا نیلے پین سے لکھنا سنت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطوط بادشاہوں کو لکھ کر دئے تھے وہ کون سا رنگ تھا ؟ اگر بادشاہوں کے خطوط نیلے پین سے لکھے ہوئے تھے تو کیا اس سے نیلے پین سے لکھنا سنت ہوگا ؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خطوط عام طور پر کاغذ، پتھر، چمڑے، یا ہڈی کے ٹکڑوں پر لکھے جاتے تھے۔ ان خطوط کو لکھنے کے لیے سیاہی اور قلم کا استعمال ہوتا تھا، جو عموماً لکڑی، پنکھ، یا نرم ہڈی سے بنایا جاتا تھا۔ خطوط کو مہر لگا کر محفوظ کیا جاتا تھا، جس پر "محمد رسول اللہ" کی مہر نقش ہوتی تھی۔ ان خطوط کی تیاری اور ترسیل میں بڑی احتیاط برتی جاتی تھی تاکہ وہ بادشاہوں تک مناسب طریقے سے پہنچ سکیں ۔

تاریخ کی  مستند کتابوں میں خطوط کے بارے میں اس قدر معلومات ہیں کہ آپ نے مختلف بادشاہوں کو خطوط بھیجے، لیکن سیاہی میں ایسے  کسی رنگ کا تذکرہ نہیں ملا۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن ابن شهاب قال: أخبرني عبيد الله بن عبد الله: أن ابن عباس أخبره:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بكتابه إلى كسرى، مع عبد الله ابن حذافة السهمي، فأمره أن يدفعه إلى عظيم البحرين، فدفعه عظيم البحرين إلى كسرى، فلما قرأه مزقه، فحسبت أن ابن المسيب قال: فدعا عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: أن يمزقوا كل ممزق."

(کتاب المغازی، ‌‌77 - باب - كتاب النبي صلى الله عليه وسلم إلى كسرى وقيصر،ج:4،ص1610،،رقم الحدیث:4162،ط:دار ابنِ کثیر-دمشق)

تاریخ دمشق میں ہے:

"ولم يبق للأكاسرة ملك لقوله صلى الله عليه وسلم: "مزق الله ملكه" حين مزق ‌كتاب ‌النبي صلى ‌الله ‌عليه ‌وسلم."

(‌‌باب: من أخباره صلى الله عليه وسلم بالكوائن بعده فوقعت كما أخبر،ج1،ص:252،ط:المکتبة التوفیقیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101397

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں