بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

فیصل فنڈ کا حکم


سوال

 فیصل فنڈ جو کہ ایزی پیسہ ایپ کے اندر ہے اس میں پیسے لگا کر ماہانہ نفع جو ملتا ہے وہ جائز ہے یا نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایزی  پیسہ اکا ؤنٹ  کے ذریعہ جمع کردہ رقوم سے کئی قسم کی سہو لیات حاصل کی جاسکتی ہیں ،جن سے بعض اگر چہ فی نفسہ جائز ہیں ، مثلا بلوں کی ادا ئیگی ،یا رقوم کا تبادلہ ،موبائل وغیر ہ میں بیلنس کا استعمال وغیرہ ،لیکن معلوم ہواکہ ان کی پشت پر ایک بینک ہوتاہے،telenor micro-financing bank، بھی ایک قسم کا بینک ہی ہے کہ جس میں عام طور پر چھوٹے سرمایہ داروں کی رقوم سودپررکھی جاتی ہیں اور اس میں سے چھوٹے کار و بار وں کے لیے سود پر قرض بھی دیاجاتاہے، اسی طرح ایزی پیسہ کے انویسٹ منٹ آپش میں ایک آپش فیصل ایسٹ مینجمنٹ لیمیٹڈ (faysal asset management limited)کاہے ،جس میں پیسے انویسٹ ہو تے ہیں ،لیکن اس کی فقہی حیثیت یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ یا اس آپش میں جمع کردہ رقم قرض ہے ،اور چوں کہ قرض دے کراس سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھا  ناجائز نہیں ہے ،لہذا مذکورہ آپش میں پیسے انو یسٹ کر کے نفع حصل کرنا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ اس اکاؤنٹ میں رقم رکھو انا در حقیقت قرض ہے ،اور قرض دینا تو فی نفسہ جائز ہے ، لیکن کمپنی اس پر جو مشروط منافع دیتی ہے، یہ شرعا نا جائز ہے ،اس لیے کہ قرض پرشرط لگاکر نفع کے لین دین کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سود قرار دیا ہے۔

المصنف لابی شیبہ میں ہے:

"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم قال: ‌كل ‌قرض جر منفعة فهو ربا"

‌‌(من كره كل قرض جر منفعة،٤٢٥/١١،ط: دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع)

ترجمہ :"ہر قرض جو منفعت کھینچے، وہ سود ہے"

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌قرض ‌جر منفعة» وسماه ربا."

‌‌(باب القرض والصرف فيه،35/4،ط: دار المعرفة)

بسائع الصنائع میں ہے:

"(‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب."

(‌‌كتاب القرض،فصل في شرائط ركن القرض، 395/7،ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن". 

 ( مطلب کل قرض جر نفعا،١٦٦/٥، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412101483

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں