بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

نظر لگنے کے ڈر سے خوشخبری کو چھپانا


سوال

مير ے رشتہ داروں کے ہاں سات سال بعد اولاد کی خوشخبری آئی ہے ، جس کی وجہ سے ہم پریشان ہیں کہ نظر نہ لگ جائے اس لئے ہم جاننا چاہتے ہیں کہ نظر لگ جانے کی ہماری دین اسلام میں کیاحقیقت ہے ؟ کیانظر لگتی ہے ؟ کیااس نیت سے ہم خوشخبری کو چھپاسکتے ہیں ، تفصیل سے بتادیں ۔جزاک اللہ

جواب

احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہےکہ نظر کا لگ جاناحق ہے اور نظرلگ جانے کے اثرات بسااوقات بہت گہرے بھی ہوسکتے ہیں ، اس لئے اگر نظر لگنے کا اندیشہ اور ڈرہے ، تو اس کیلئے تدبیر کے طورپر خوشخبری کو راز میں بھی رکھنے کی گنجائش ہے ، نیز اسکے ساتھ ساتھ معوذتین اور نظرسے حفاظت کی دعاؤں کا اہتمام بھی کرتے رہناچاہئے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143406200015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں