بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نیا سال منانے کا حکم


سوال

نیا سال منانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  نیاسال  منانااوراس کی مبارك باد دينا  بے اصل ہے،نئے سال کی آمد پر خوشی منانا، پٹاخے پھوڑنا، تالیاں بجانا، سیٹیاں بجانا، ناچ گانا کرنایانئے سال کی مبارکباد دینے کے لیےموبائل سے ایک دوسرے کو  موبائل وغیرہ پر پیغامات بھیجنا وغیرہ ،  یہ سب غیروں کا طریقہ اوران کی نقالی ہے اور شريعت مطہرہ نے  غیروں کی اتباع اور ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔

البتہ ہر مہینہ کا چاند دیکھنے کے وقت اور قمری سال کے آغاز میں یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:

اللَّهُمَّ ‌أَهِلَّهُ ‌عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ،

 ترجمہ: "اےاللہ اس چاند کا طلوع ہونا  ہمارے  لیے امن وایمان، سلامتی اور اسلام کا ذریعہ بنا،(اے چاند) میرا اور تیرا رب اللہ  ہی ہے" ۔

 ترمذی  شریف میں ہے:

"عن ‌عمران بن حصين، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «في هذه الأمة ‌خسف ‌ومسخ وقذف» فقال رجل من المسلمين: يا رسول الله، ومتى ذاك؟ قال: إذا ظهرت القينات والمعازف، وشربت الخمور."

(‌‌أبواب الفتن، باب ما جاء في علامة حلول المسخ والخسف، ج:4، ص:72، ط:دار الغرب الإسلامي)

صحیح البخاری ميں ہے:

" عن أبي سعيد رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لتتبعن سنن من قبلكم شبرا بشبر، وذراعا بذراع، حتى لو سلكوا جحر ضب لسلكتموه»، قلنا يا رسول الله: اليهود، والنصارى قال: «فمن؟."

(‌‌باب ما ذكر عن بني إسرائيل،ج:4،ص:169،رقم الحديث:3457،ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن طلحة بن عبيد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى الهلال قال: «اللهم ‌أهله ‌علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله» . رواه الترمذي."

(‌‌كتاب الدعوات، باب الدعوات في الأوقات، الفصل الثانی،ج:2،ص:751، ط:المكتب الإسلامي)

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم فهو منهم."

(كتاب اللباس، ‌‌باب في لبس الشهرة، ج:2،ص:203،ط: رحمانیة)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تشبه بقوم فهو منهم» " رواه أحمد، وأبو داود.

(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب.

 (كتاب اللباس، الفصل الثاني، ج:8، ص:222، ط:مکتبة حنیفیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506101462

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں