بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا شرعی حکم


سوال

 "نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم " جو کہ میزان بینک کی جانب سے جاری کی گئی ہے ، اس میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں ؟شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

 واضح رہے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں حکومت میزان بینک سمیت مختلف بینکوں سے جو رقم بطور قرض لے کر دے رہی ہے اس میں  پانچ فیصد شرح سود کی شرط بھی موجود ہے ، لہذا  نیا پاکستان ہاؤسنگ  اسکیم کے تحت  گھر بنانے  کے لیے  حکومت یا بینک سے سودی قرضہ لینا   ناجائز  اور  حرام ہے۔ 

تفصیل کے لیے دیکھیے:

میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کا حکم

صحيح مسلم  میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه ، وقال: «هم سواء."

( كتاب المساقات ، ج:3 ، ص:1219 ، رقم الحديث:1598 ، ط: داراحياءالتراث ، بيروت )

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(كتاب الحوالة، باب كل قرض جر منفعة ، ج:14  ، ص:513 ، ط:ادارة القرآن) 

سنن الکبری للبیہقی میں ہے :

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " ‌كل ‌قرض ‌جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا."

( باب کل قرض جر منفعۃ فهو ربا ، ج:5 ، ص:571، ط :دارالکتب العلمیة )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100265

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں