بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ذوی الفروض یا عصبہ کے ہوتے ہوئے ذوی الارحام کو حق وراثت نہیں


سوال

سائل  کی شادی 2004ء میں میرے والدین کی پسند پر میری ماموں زاد بہن سے ہوئی ۔مرحومہ 2015ء جنوری تک میری حق زوجیت میں رہی۔اس دوران مرحومہ کے بطن سے سائل کے دو فرزندان 2009ءاور2012ء میں بالترتیب تولد ہوئے۔سائل نے اپنی بیوی سے باہمی صلاح ومشورہ کرکے بیوی کے دونوں خاندانوں سے حاصل شدہ سونے کے زیورات کو فروخت کرکے آدھا کنال اراضی حاصل کیا تھا۔ سائل کو 2010 میں بحثیت سرکاری ملازم محکمہ نے بغیر تنخوہ کے وٹرنری کالج میں 5سال کے لے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے بھیجا۔ مگر بد قسمتی سے 2013ء میں ہی سائل کی شریک حیات کو انتڑیوں کا کنسر نمودار ہوا۔ B.v.sc چوں کہ سائل اس دوران بغیر تنخوہ کالج میں کی ڈگری کررہا تھا، اس  لیے سائل نے اپنی بیوی سے مشورہ کرکے بیوی کا آدھا کنال اور اپنا آدھا کنال یعنی کل ایک کنال اراضی فروخت کیا اور  اپنی بیوی کودہلی کے ایک بڑے پرائیوٹ ہسپتال میں علاج کے  لیے بھرتی کیا۔اور ڈیڑھ سال کے عرصے میں اللہ کے فضل سے میری زوجہ محترمہ دو سرجریوں کے بعد اس مرض کنسر سے مبرا ہوگئی  ۔اور دونوں خاندان مطمئن اور خوش ہوئے۔

جنوری 2015ء کوسائل کی بیوی اپنے باپ کی دعوت پر میکے چلی گئی اور وہاں چند دن قیام کے  لیے رک گئی، کچھ دن کے بعد اچانک اس کو وھاں پر سٹروک ہوا اور سسرال والوں نے فوراً بلایااور سائل نے جلدی اپنی بیوی کو ہسپتال میں بھرتی کرایا ۔بالآخر مری بیوی اس دنیا سے انتقال کرکے مالک حقیقی سے جا ملی۔

اب  چوں کہ متوفیہ  کے دو فرزندان دنیا میں موجود ہیں استدعاء  ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ایک فتویٰ صادر فرمایا جائے  کہ کیا یہ متوفی کے فرزندان اپنے نانوں اور نانی کی وراثت سے کوئی جائز حق حاصل کرسکتے ہیں یا ماں کے مرجانے کے بعد یہ دونوں بچے نانوں اور نانی کی وراثت سے محروم ھوگئے ہیں؟

سائل کے سسر کے ملکیت میں 1کنال 7 مرلے اور ایک مکان بقیمت 60لاکھ روپے اور 8 دوکانات اور 5 مرلہ شاملات اراضی موجود ہیں۔جب کہ میری  ساس کی ملکیت میں 18 مرلےاراضی موجود ہیں۔ ان کی اولاد میں ایک بیٹا  ہے اور ایک بیٹی جو  سائل کی زوجیت میں 2015ء تک تھی۔

براہ کرم فتویٰ صادر فرما کر اسلام کی روشنی میں مسئلہ حل ہوجائے۔(سائل  کی بیوی پر بیماری میں علاج معالجہ پر جوکثیر رقم خرچ ہواوہ سائل نے خود کیا اس میں کسی نے مدد نہ کی)۔

جواب

بصورتِ  مسئولہ آپ کی بیوی کا انتقال اگر آپ کے ساس سسر  کی زندگی میں ہوگیا ہے  تو ایسی صورت میں آپ کی بیوی اپنے ماں باپ کی جائیداد میں حق دار نہیں ہے ، اور نواسہ  نانا  نانی کے شرعی وارث بھی نہیں ہے ؛  اس  لیے بصورتِ مسئولہ آپ کے بیٹوں کا آپ کے ساس سسر کی جائیداد میں شرعًا حق نہیں ہے  ،البتہ  اگر نانا نانی خوشی سے ان کے لئے اپنے مال میں سے کوئی(ایک تہائی کے اندر) وصیت کردیں یا زندگی میں کچھ گفٹ کردیں تو شرعًا درست ہے اور یہ ان کی طرف سے تبرع ہوگا شریعت اس سے منع نہیں کرتی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں