بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1444ھ 01 جون 2023 ء

دارالافتاء

 

نوافل کے ذریعے تقرب حاصل کرنے سے متعلق ایک حدیث


سوال

براہِ کرم وہ حدیث حوالہ کے ساتھ بیان فرما دیں، جس کا مفہوم ہے : جب میرا بندہ نوافل کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرتا ہے تو میں اس کی آنکھ، کان، ہاتھ اور پاؤں بن جاتا ہوں!

جواب

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:

’’جوشخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرتا ہے میری طرف سے اُس کو لڑائی کا اعلان ہے،اورمیرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے مجھ سے قرب حاصل کرنا چاہتا ہےاُن میں  سب سے زیادہ  محبوب چیزیں  میرے نزدیک وہ ہیں جو میں نے اُس پر فرض کی ہیں (یعنی فرائض  ادا کرنے سے سب سے زیادہ مجھ سے قرب حاصل ہوتاہے)،اور نوافل کی وجہ سے بندہ مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہےیہاں تک کہ میں اُسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں،جب میں اُسے محبوب بنالیتاہوں توپھر میں اُس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنے،اور اُس کی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھے،اور اُس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ (کسی چیزکو) پکڑے،اور اُس کاپاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلے(یعنی اس کا دیکھنا ،سننا،چلنا،پھرنا،سب میری خوشی کے تابع بن جاتا ہےاور کوئی بات میری مرضی کے خلاف نہیں ہوتی) ،اگروہ مجھ سے کچھ مانگتا ہےتو میں اُسے ضرور عطا کرتاہوں،اور اگر وہ  کسی چیز سے پناہ چاہتا ہےتو میں ضرور اُسے پناہ دیتاہوں،اورکسی چیزکے کرنے میں مجھے اِتنا تردد نہیں ہوتاجتنا ترددمومن کی روح قبض کرنے میں ہوتاہے،وہ موت کو ناپسند کرتا ہےاور مجھے اسے غمگین کرنا ناپسند ہوتاہے۔‘‘

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة-رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: " إنّ الله قال: من عادَى لي ولياً فقد آذنتُه بالحرب، وما تقرّب إليّ عبدي بشيءِ أحبّ إلي مما افترضتُ عليه، وما يزالُ عبدي يتقرّبُ إليّ بالنوافل حتى أُحِبُّه، فإذا أحببتُه كنتُ سمعَه الذي يسمعُ به، وبصرَه الذي يبصرُ به، ويدَه التي يبطشُ بها، ورجلَه التي يمشي بها، وإن سألني لأُعطينَّه، ولئن استعاذَني لأُعيذنّه، وما تردّدتُ عن شيءٍ أنا فاعلُه تردّدي عن نفس المؤمن، يَكرهُ الموتَ وأنا أكره مَساءتَه ".

(كتاب الرقاق، باب التواضع، ج:8، ص:105، رقم:6502، ط:دار طوق النجاة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144112200849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں