بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نو مہینے کا بچہ جو ماں کے پیٹ میں مرجائے ، اس کا جنازہ اور دفنانے کا حکم


سوال

نو مہینے کا   بچہ  جو ماں کے پیٹ میں مر جائے، باہر نکال کر ایک سانس بھی نہ لی ہو تو ایسے بچے کے دفنانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے جو   بچہ / بچی  مردہ پیدا ہو  یعنی پیدائش کے وقت زندگی کی کوئی علامت اس میں موجود نہ ہو، لیکن سارے اعضاء بن چکے ہوں تو ایسے بچے/ بچی  کا حکم یہ ہے کہ اس  کو غسل بھی دیا جائے گا اور نام بھی رکھا جائے گا، لیکن باقاعدہ مسنون کفن نہیں دیا جائے گا اور جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ یوں ہی کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وإلا) يستهل (غسل وسمي) عند الثاني وهو الأصح فيفتى به على خلاف ظاهر الرواية إكراما لبني آدم كما في ملتقى البحار. وفي النهر عن الظهيرية: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر هو المختار (وأدرج في خرقة ودفن ولم يصل عليه) وكذا لا يرث إن انفصل بنفسه ..قال في الشرنبلالية: يمكن التوفيق بأن من نفى غسله أراد غسل المراعى فيه وجه السنة، ومن أثبته أراد الغسل في الجملة كصب الماء عليه من غير وضوء وترتيب لفعله كغسله ابتداء بسدر وحرض. اهـ. قلت: ويؤيده قولهم ويلف في خرقة حيث لم يراعوا في تكفينه السنة فكذا غسله."

(‌‌كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة،  ج:2، ص:228، ط:سعيد)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"ذكر الكرخي وروي عن أبي يوسف أنه يغسل ويسمى ولا يصلى عليه، وكذا ذكر الطحاوي وقال محمد: في السقط الذي استبان خلقه: أنه يغسل ويكفن ويحنط ولا يصلى عليه، فاتفقت الروايات على أنه لا يصلى على من ولد ميتا، والخلاف في الغسل.وجه ما اختاره الطحاوي أن المولود ميتا نفس مؤمنة فيغسل وإن كان لا يصلى عليه."

 (كتاب الصلاة، فصل شرائط وجوب الغسل، ج:1، ص:302، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإن لم ‌يستهل أدرج في خرقة ولم يصل عليه ويغسل في غير الظاهر من الرواية وهو المختار، كذا في الهداية."

(كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني في غسل الميت، ج:1، ص:159، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502101884

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں