بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

نشئی کا ترکہ اس کے حوالہ نہ کیا جائے بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے اس پر صرف کیا جائے


سوال

1)میرے والد کا انتقال 2008 میں ہوا تھا ،اور میری والدہ کا انتقال 2020 میں ہوا ہے ،ورثاء میں ہم 3 بھائی اور ایک بہن ہے ،والد صاحب کے ترکہ میں ایک مکان  اور دس دکانیں بھٹائی آباد ،گلستان جوہر میں ہے ،والدہ کے انتقال کے بعد  والدہ کی خواہش پر  ہم سب بھائی بہن اس پر راضی ہیں کہ اس جائيداد  کو بیچا نہیں جائے ،بلکہ اسی کوآپس ميں  تقسیم کیا جائے ،اور چاروں ورثاء کو برابر برابر حصہ دیا جائے ،اس جائیداد کی تقسیم اور نقشہ ساتھ منسلک ہے ،واضح رہے کہ چوں کہ مکان کو تقسیم کر رہے ہیں ،اس لیے ہر  ایک حصہ میں جودكان  یا مکان  یا ان دونوں کا مجموعہ آرہا ہے،اس حصہ کی قیمت اور اس سے آنے والے کرایہ میں قدرے اختلاف ہے ،لیکن ہم سب بھائی بہن یعنی ورثاء اس تقسیم پر متفق ہیں ،کیا ہم رضامندی سے اس طرح تقسیم کر سکتے ہیں ؟

2)اس جائیداد کو تقسیم کرنے کے بعد ہر ایک کو قبضہ دینے کا کیا طریقہ ہو گا ؟یعنی کیا دکان اور مکان وغیرہ کا قبضہ اور کرایہ ان کے حوالہ کرنا ہوگا ۔

3)ابھی ہم سب بھائی اور  بہن ایک جگہ کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں ۔اور گھرکا کرایہ اور خرچ مشترک کرتے ہیں اور والد صاحب کی جائیداد سے جو آمدن آتی ہے اس سے گھر کا کرایہ اور دیگر اخراجات جو مشترک ہیں وہ ادا کرتے ہیں، تقسيم كے بعد ہم یہ مشترك اخراجات كس طرح پورا سكتے ہیں ؟ تقسیم کے بعد ہم یہ مشترك اخراجات كس طرح پورا كريں گے ؟سب کی خواہش ہے ایک ساتھ رہیں اور اخراجات مشترکہ کریں ؟

4)میرا ایک بھائی نشہ کرتا ہے ،جب جائیداد کی تقسیم کے بعد اس کا کرایہ اور اس کے  اختیارات اس کو دیں گے تو اندیشہ ہے کہ اس کو نشہ میں ہی نہ اڑا دے ،کیوں کہ اس سے پہلے بھی والدہ اور ہم نےاسے  کافی پیسہ دیے تھے کہ کاروبار کرے ،لیکن اس نے سب پیسہ خرچ کر ڈالے ،اب سوال یہ ہے کہ  تقسیم کے بعد ہم جائیداد اس کے حوالہ کر دیں ،یا اس کی جائیداد کو اس کے حوالہ نہ کرنے کا کوئی طریقہ ہے ،کہ اس کی جائیداد ضائع نہ ہو اور اس کا خرچہ بھی مذکورہ بھائی کی اجازت سے میں اس کا کرایہ اپنے پاس رکھوں ،اور اس کی ضروریات میں خرچ کر سکتا ہوں ،مذکورہ بھائی مجھے اس بات کی اجازت بھی دے رہا ہے۔

جواب

1)صورتِ مسئولہ میں اگر ورثاء باہمی رضامندی سے منسلکہ تقسیم پر راضی ہیں  تو پھر ان کے لیے مذکورہ طریقہ سے تقسیم کرنا جائز ہے ،بہتر یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کا حصہ حوالہ کر دینے کے بعد اس بات پر دستخط لے لی جائے کہ وہ اس تقسیم پر راضی ہیں اور آئندہ کسی قسم کا مطالبہ نہیں کریں گے ۔

2)جی ہاں ،ہر ایک کو اس کا حصہ    مکمل قبضہ و تصرف کے ساتھ حوالہ کرنا ضروری ہے ،اسی طرح اس سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی اس کےحوالہ کرنا  ضروری ہے ۔

3)اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصہ کے کرایہ کو وصول کر کے بڑے بھائی کو یا ورثاء جس کو بھی باہمی مشاورت سے طے کر لیں  ان کو حوالہ کر کے اس کے مکمل اختیارات دے دیں کہ آپ جس طرح مناسب سمجھیں اس کو گھر کے اخراجات میں صرف کریں اور مذکورہ وارث جو بھی خرچ کرے  ،جہاں خرچ کرے وہ لکھ لیا کرے ،ہر ماہ کے آخر میں اس حساب و کتاب پر ان سے دستخط لے لیا کرے ۔

4)اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ ورثاء اس کو اس کا مال حوالہ نہ کریں ،اور ضرورت کے تحت اس پر خرچ کرتے رہیں ،اور اس کے ترکہ سے لیتے ہیں ،اور سارا حساب وکتاب محفوظ رکھیں ،اور اگر سائل مذکورہ بھائی کی اجازت سے اس کے حصے کے کرایہ کی رقم اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس پر خرچ کرتا ہے تو یہ بھی جائز ہے ۔ 

الدر المختار میں ہے:

"(وعندهما يحجر على الحر بالسفه و) الغفلة و (به) أي بقولهما (يفتى) صيانة لماله وعلى قولهما المفتى به."

(رد المحتار،کتاب الحجر،ج:6،ص:148۔ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ونفقة الصبي بعد الفطام إذا كان له مال في ماله هكذا في المحيط."

(کتاب الطلاق ،باب فی النفقات،ج:1،ص:562،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100946

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں