بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

نقل کرکے مطلوبہ نمبروں پر اسکالر شپ لینا


سوال

امتحان میں نقل کرنے کے بعد جو نمبر آجائیں تو ان نمبروں  سے کوئی اسکالر شپ لی  جاسکتی  ہے؟ اگر لی  جا سکتی  ہے تو ٹھیک ہے اور اگر نہیں لی  جاسکتی تو کیا حرام ہے یا نہیں  ؟

جواب

امتحانات میں نقل کرنا  جھوٹ، خیانت، دھوکا دہی، فریب اور حق داروں کی  حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے  کی وجہ سے ناجائز ہے،اس پر توبہ واستغفار کرنالازم ہے۔نقل سے  حاصل شدہ نمبروں کی بنیاد پر اسکالر شپ حاصل کرنا حق داروں کی حق تلفی کے مترادف ہے ،  اسکالر شپ (تعلیمی وظیفہ )  کی بنیاد اگر محض  مخصوص نمبر ہیں اور  ان  نمبروں کا حصول محض نقل کی وجہ سے ہے تو اسکالر شپ (تعلیمی وظیفہ)  حاصل کرنا جائز نہیں ہوگا۔

قرآن مجید میں ہے:

{إنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا} [النساء: 58]

ترجمہ: اللہ تعالی تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچادیا کرو۔

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144207200738

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں