بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

نقد رقم کی زکوۃ


سوال

طارق نے باغ 500000 پانچ لاکھ روپے میں ٹھیکیدار پر بیچ دیا، بعد میں دونو ں کی رضامندی سے قیمت 400000چار لاکھ مقرر کی گئی، اب زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟500000لاکھ سے اداکرنی ہے یا400000سے۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب طارق نے ایک لاکھ روپے کو ساقط کردیا  تو اب طارق کو چار لاکھ روپے کی زکوۃ اداکرنی ہوگی۔اب  اگر طارق پہلے سے صاحب نصاب ہے، زکوۃ دیتا چلا آیاہے، تو زکوۃ کی ادائیگی کے لیے مقرر کردہ تاریخ کو اگر طارق کے پاس یہ ساری رقم موجود ہو تو دیگر مالیت کے ساتھ اس کل رقم یعنی چار لاکھ کو شامل کرکے مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد زکوۃ میں ادا کرے گا، اور اگر اس رقم میں سے کچھ خرچ ہوجائے تو اس صورت میں زکوۃ کی ادائیگی کے دن جتنی رقم باقی موجود ہوگی، اس رقم کو دیگر قابل زکوۃ اموال کے ساتھ شامل کرکے اگر نصا ب برابر مالیت ہوتو کل مالیت کا ڈھائی فیصد زکوۃ میں ادا کرنا ہوگا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں