بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نقد میں گاڑی بیچنے کے بعد اسی گاڑی کو قسطوں میں خریدنے کا حکم


سوال

 زیدنے بکر کو گاڑی بیچی نقد پر، اب وہی گاڑی زید بکر سے قسطوں پر خرید رہا ہے ۔تو آیا یہ معاملہ شرعًا جائز ہے ؟

جواب

اگر زید اور بکر کا اصل مقصد گاڑی کی خرید و فروخت نہیں ہو، بلکہ زید کو پیسوں کی ضرورت تھی، اور اس نے مثلًا  دس لاکھ نقد میں اپنی گاڑی بکر کو بیچ دی اور بکر سے دس لاکھ لے  لیے، پھر بکر نے واپس وہ گاڑی قسطوں میں ادائیگی کی شرط پر زید کو بارہ  لاکھ میں بیچ دی تو یہ صورت جائز نہیں ہوگی؛ کیوں کہ یہ سودی قرضہ کا حیلہ ہونے میں "بیع عینہ"  کی طرح ہے، اس لیے کہ اس صورت میں گویا اصل میں زید کو دس لاکھ کا قرضہ مل گیا اور بکر کو قرضہ کے بدلہ آخر میں دو لاکھ کا نفع حاصل ہوجائے گا،  "بیعِ عینہ"  کا حکم یہ ہے کہ ایسا معاملہ کرنا مکروہِ تحریمی  (ناجائز) ہے،  اور یہ سود کھانے کا قبیح ترین حیلہ ہے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’ اس قسم کی بیع کا بوجھ میرے دل میں پہاڑ کی مانند ہے، یہ قبیح ترین معاملہ ہے جس کو سود خوروں نے (بطورِ حیلہ ) ایجاد کیا ہے۔‘‘

 حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم  "بیعِ عینہ"  کرو گے اور گائے  کی دموں کے   پیچھے پڑجاؤگے اور  زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور  جہاد چھوڑ دوگے  تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ  تم ذلیل ہو جاؤگے اور دشمن تم پر غالب ہو جائے گا۔  ایک اور روایت میں یہ بھی آتا ہے : اللہ تعالیٰ تمہارے بدترین لوگوں کو تم پر مسلط کردیں گے، پھر تمہارے بہترین (نیک) لوگ دعائیں مانگیں گے، لیکن ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔

  لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں بیع عینہ کے طریقے پر مذکورہ سودا کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس طریقہ کو ترک کرنا لازم ہے، عربی زبان میں ایک قول ہے کہ :’’إياك و العينة؛ فإنها اللعينة.‘‘یعنی  بیع عینہ سے بچو کیوں کہ بیع عینہ باعثِ لعنت ہے۔

البتہ اگر زید اور بکر کا مقصد سودی قرضہ کا حیلہ کرنا نہ ہو، بلکہ بکر کو گاڑی کی ضرورت ہو جس کی وجہ سے وہ زید سے گاڑی خرید کر نقد ادائیگی کردے، پھر اتفاقًا واپس وہی گاڑی زید کو بیچنے کا ارادہ ہوجائے تو اس صورت میں بکر کے  لیے وہ گاڑی واپس زید کو قسطوں میں ادائیگی کی شرط پر بیچنا جائز ہوگا۔

سنن أبي داود (3/ 274):

"باب في النهي عن العينة : 

حدثنا سليمان بن داود المهري، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حيوة بن شريح، ح وحدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا عبد الله بن يحيى البرلسي، حدثنا حيوة بن شريح، عن إسحاق أبي عبد الرحمن، قال سليمان: عن أبي عبد الرحمن الخراساني، أن عطاء الخراساني، حدثه أن نافعا حدثه، عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا تبايعتم بالعينة ، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم»".

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولايرغب المقرض في الإقراض طمعاً في فضل لايناله بالقرض فيقول: لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهماً وقيمته في السوق عشرة؛ ليبيعه في السوق بعشرة، فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهماً وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثاً فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهماً ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهماً، كذا في المحيط،... وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم»".

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:۵ ؍ ۲۷۳، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

"فيأتي إلى تاجر فيطلب منه القرض ويطلب التاجر منه الربح ويخاف من الربا فيبيعه التاجر ثوباً يساوي عشرة مثلاً بخمسة عشر نسيئةً فيبيعه هو في السوق بعشرة فيحصل له العشرة ويجب عليه للبائع خمسة عشر إلى أجل أو يقرضه خمسة عشر درهماً ثم يبيعه المقرض ثوباً يساوي عشرة بخمسة عشرة، فيأخذ الدراهم التي أقرضه على أنها ثمن الثوب فيبقى عليه الخمسة عشر قرضاً درر.

ومن صورها: أن يعود الثوب إليه كما إذا اشتراه التاجر في الصورة الأولى من المشتري الثاني ودفع الثمن إليه ليدفعه إلى المشتري الأول، وإنما لم يشتره من المشتري الأول تحرزاً عن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن... (قوله: وهو مكروه) أي عند محمد، وبه جزم في الهداية... وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا، وقد ذمهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم» أي اشتغلتم بالحرث عن الجهاد. وفي رواية: «سلط عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلايستجاب لكم». وقيل: إياك والعينة؛ فإنها اللعينة."

(کتاب الکفالة، مطلب بیع العینة، ج: ۵ ؍ ۳۲۵  ، ط:سعید)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"ويمكن تعريفها - أخذاً مما يأتي - بأنها: قرض في صورة بيع، لاستحلال الفضل... وتئول العملية إلى قرض عشرة، لرد خمسة عشر، والبيع وسيلة صورية إلى الربا ... حكمها: اختلف الفقهاء في حكمها بهذه الصورة: فقال أبو حنيفة ومالك وأحمد: لايجوز هذا البيع. وقال محمد بن الحسن: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال، اخترعه أكلة الربا ... روي عن ابن عمر رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا ضن الناس بالدينار والدرهم، وتبايعوا بالعينة، واتبعوا أذناب البقر، وتركوا الجهاد في سبيل الله، أنزل الله بهم بلاءً، فلايرفعه حتى يراجعوا دينهم. وفي رواية: إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلاً، لاينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم".

(بیع العینة، ج:۹ ؍ ۹۶ ، ۹۷ ، ط:دار السلاسل،کویت ) 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 73):

"(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول. صورته: باع شيئاً بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة لم يجز وإن رخص السعر للربا خلافاً للشافعي (وشراء من لاتجوز شهادته له) كابنه وأبيه (كشرائه بنفسه) فلا يجوز أيضاً خلافاً لهما في غير عبده ومكاتبه (ولابد) لعدم الجواز (من اتحاد جنس الثمن) وكون المبيع بحاله (فإن اختلف) جنس الثمن أو تعيب المبيع (جاز مطلقاً)كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد.

(قوله: بأزيد أو بعد النقد) ومثل الأزيد المساوي كما في الزيلعي، وهذا قول المصنف بالأقل قبل نقد الثمن".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200844

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں