بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نقد خریدنے کے بعد ادھار بیچنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے ایک ہول سیل  دکاندار سے 1500000روپے میں کچھ چاول اور کچھ چینی کی بوریاں خریدیں ۔پھر اس نے وہی بوریاں ایک دوسرے چھوٹے دکاندار پر ایک سال کے عرصے میں واپسی کی شرط پر 1700000 میں فروخت کیں ۔یعنی روپے کی واپسی ایک سال بعد ہوگی، کیا یہ جائز ہے؟اگر جائز ہےتو اس پر زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے جو چاول اور چینی کی بوریاں پندرہ لاکھ روپے کی خریدی تھیں اگر مذکورہ شخص نے ان پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد آگے دوسرے دکاندار کو   سترہ لاکھ روپے كي ادھار میں ایک سال بعد رقم کی ادائیگی کی شرط پر فروخت کردیں تو یہ معاملہ شرعاً  جائز ہے بشرطیکہ رقم کی ادائیگی کی  مدت معلوم ہو اور اور تاخیر ہونے کی صورت میں جرمانہ وغیرہ کے نام سے زائد رقم نہ وصول کی جائے،نیز جب فروخت کنندہ   کا زکاۃ کا سال مکمل ہوگا اور مذکورہ رقم ابھی نہ ملی ہو تو اس رقم کی زکوۃ بھی لازم ہوگی اگرچہ یہ اختیار بھی ہے کہ رقم ملنے پر زکوۃ ادا کرے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وكذا إذا قال: بعتك هذا العبد بألف درهم إلى سنة أو بألف وخمسمائة إلى سنتين؛ لأن الثمن مجهول........فإذا علم ورضي به جاز البيع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد."

(کتاب البیوع ، فصل فی شرائط الصحة فی البیوع جلد 5 ص: 158 ط: دارالکتب العلمی)

دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"اذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع.

يعني أن التأجيل إذا كان بالأيام أو الشهور أو السنين أو بطريق آخر فهو صحيح ما دام الأجل معلوما (بحر) وعلى هذا إذا باع إنسان من آخر متاعا وهو صحيح وسلمه إليه ثم توفي فليس لورثته أن يأخذوا الثمن من المشتري قبل حلول الأجل؛ لأن الأجل الذي هو حق المدين لا يبطل بوفاة الدائن علي أفندي وهذه المادة فرع للمادة."

(الکتاب الأول البیوع، الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل (المادۃ: 246) کون المدۃ معلومة فی البیع بالتاجیل و التقسیط جلد 1 ص: 228 ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم

(قوله: عند قبض أربعين درهما) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لا تجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج فكذلك لا يجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج.وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين."

(كتاب الزكاة ، باب زكاة المال جلد 2 ص: 305 ط: دارالفكر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144504100578

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں