بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نقد کے مقابلہ میں قسطوں میں زیادہ قیمت پر خرید وفروخت


سوال

كسي بھی جگہ سے قسطوں پر چیز لینا جائز ہے؟  مثال کے طور  پر  سی ایس ڈی  (CSD) یا کسی بھی پرائیوٹ ادارے سے جو کہ اصل رقم پر کچھ مارک اپ کرکے چیزیں دیتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر شخص  کے  لیے اپنی مملوکہ  چیز  کو  اصل قیمت میں کمی زیادتی کے ساتھ نقد  اور ادھار دنوں طرح  فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور جس طرح ادھار پر سامان  فروخت کرنے والا اپنے سامان کی قیمت یک مشت وصول کرسکتا ہے، اسی  طرح اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے  کہ وہ اس رقم کو قسط وار وصول کرے،  اسے اصطلاح میں ”بیع بالتقسیط“ یعنی قسطوں پر خریدوفروخت  کہتے ہیں،  اور اس  بیع کے صحیح ہونے کے لیے درج ذیل  شرائط کا لحاظ  اور رعایت کرنا ضروری ہے:

قسط کی رقم متعین ہو، مدت متعین ہو، معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار،  اور عقد کے وقت اس چیز کی  مجموعی قیمت مقرر ہو، اور ایک شرط یہ بھی  ہے کہ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس  میں اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے، اور جلدی  وقت سے پہلے ادا کرنے کی صورت میں قیمت میں کمی نہ کی جائے، اگر بوقتِ عقد یہ شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا، ان شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإذا عقد الْعَقْدَ عَلَى أَنَّهُ إلَى أَجَلِ كَذَا بِكَذَا وَبِالنَّقْدِ بِكَذَا أَوْ قَالَ إلَى شَهْرٍ بِكَذَا أَوْ إلَى شَهْرَيْنِ بِكَذَا فَهُوَ فَاسِدٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُعَاطِهِ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ وَلِنَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  عَنْ شَرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ، وَهَذَا هُوَ تَفْسِيرُ الشَّرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ، وَمُطْلَقُ النَّهْيِ يُوجِبُ الْفَسَادَ فِي الْعُقُودِ الشَّرْعِيَّةِ، وَهَذَا إذَا افْتَرَقَا عَلَى هَذَا، فَإِنْ كَانَ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى قَاطَعَهُ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ، وَأَتَمَّا الْعَقْدَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ؛ لِأَنَّهُمَا مَا افْتَرَقَا إلَّا بَعْدَ تَمَامِ شَرَطِ صِحَّةِ الْعَقْدِ".

 (13 /9، باب البیوع الفاسدہ، ط: غفاریه)

         شرح المجلہ میں ہے:

"البیع مع تأجیل الثمن و تقسیطه صحیح ...  یلزم أن تکون المدة معلومةً في البیع بالتأجیل والتقسیط".

  (2/166، المادۃ 245، 246، ط: رشیدیہ)

البحر الرائق میں ہے: 

"لِأَنَّ لِلْأَجَلِ شَبَهًا بِالْمَبِيعِ أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُزَادُ فِي الثَّمَنِ لِأَجْلِ الْأَجَلِ، وَالشُّبْهَةُ فِي هَذَا مُلْحَقَةٌ بِالْحَقِيقَةِ".

 (6/114، باب المرابحۃ والتولیہ، ط:سعید) 

 فتاوی شامی میں ہے:

"(وَ) لَا (بَيْعٌ بِشَرْطٍ) عَطْفٌ عَلَى إلَى النَّيْرُوزِ يَعْنِي الْأَصْلُ الْجَامِعُ فِي فَسَادِ الْعَقْدِ بِسَبَبِ شَرْطٍ(لَايَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ وَلَا يُلَائِمُهُ وَفِيهِ نَفْعٌ لِأَحَدِهِمَا أَوْ) فِيهِ نَفْعٌ (لِمَبِيعٍ) هُوَ (مِنْ أَهْلِ الِاسْتِحْقَاقِ) لِلنَّفْعِ بِأَنْ يَكُونَ آدَمِيًّا، فَلَوْ لَمْ يَكُنْ  كَشَرْطِ أَنْ لَا يَرْكَبَ الدَّابَّةَ الْمَبِيعَةَ لَمْ يَكُنْ مُفْسِدًا كَمَا سَيَجِيءُ (وَلَمْ يَجْرِ الْعُرْفُ بِهِ وَ) لَمْ (يَرِدْ الشَّرْعُ بِجَوَازِهِ)".

  (5/84، 85، مطلب فی البیع بشرط فاسد، ط : سعید)

فقط واللہ اعلم



فتوی نمبر : 144211200231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں