بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

قرآن کا ناپاکی حالت میں پڑھنا


سوال

اگر زبانی یاد ہو تو قرآن کو ہاتھ لگائے بغیرقرآن کا ناپاکی حالت میں پڑھنا  جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

حیض اور جنابت (یعنی غسل فرض ہونے)  کی حالت میں  قرآنِ کریم  کو  ہاتھ  لگانا ممنوع ہے،  اسی طرح  تلاوت بھی منع ہے؛ لہٰذا عورتیں ناپاکی  کی حالت میں  اور مرد یا عورت غسل فرض ہونے کی حالت میں قرآن کو  چھوئے بغیر بھی تلاوت نہیں کرسکتے۔ البتہ غسل فرض نہ ہو، صرف وضو ٹوٹا ہو تو قرآن پاک کو براہِ راست چھوئے بغیر زبانی تلاوت جائز ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 38):

'' وإذا حاضت المعلمة فينبغي لها أن تعلم الصبيان كلمةً كلمةً، وتقطع بين الكلمتين، ولا يكره لها التهجي بالقرآن. كذا في المحيط.

ولا يكره قراءة القنوت في ظاهر الرواية. كذا في التبيين، وعليه الفتوى. كذا في التجنيس والظهيرية.

ويجوز للجنب والحائض الدعوات وجواب الأذان ونحو ذلك في السراجية.

(ومنها) حرمة مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز، لا بما هو متصل به، هو الصحيح. هكذا في الهداية، وعليه الفتوى. كذا في الجوهرة النيرة.

والصحيح منع مس حواشي المصحف والبياض الذي لا كتابة عليه. هكذا في التبيين."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں