بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1444ھ 14 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

ناپاک خشک ہاتھ سے گیلا نل کھولنے کا حکم


سوال

ہاتھ پر پیشاب لگ جائے اور پیشاب بالکل صاف ہو پیلاہٹ نہ ہو تو اس کو مل کر خشک کر لیں ،پھر ایسے نل کو پکڑ لیں جس پر پانی لگا ہوا ہو، تو کیا نل ناپاک ہو جائے گا اور اگر پیشاب پیلا ہو ،نل پر رنگ ظاہر نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ناپاک خشک ہاتھ  سے  ایسے نل کو  پکڑ نا جس پر پانی لگا ہوا ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک نل پر نجاست کا اثر(رنگ ،بو ،مزہ) ظاہر نہ ہو اس وقت نل ناپاک نہیں ہوگا اور اگر نل پر نجاست کا اثر ظاہر ہوجائے تو  پھر نل ناپاک ہوجائے گا ۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  میں ہے :

"و لو ابتل فراش أو تراب نجسا" وكان ابتلالهما "من عرق نائم" عليهما "أو" كان من "بلل قدم وظهر أثر النجاسة" وهو طعم أو لون أو ريح "في البدن والقدم تنجسا" لوجودها بالأثر "وإلا" أي وإن لم يظهر أثرها فيهما "فلا" ينجسان."

(حاشية الطحطاوی على مراقي الفلاح،باب الأنجاس والطهارة عنها، ص:158، دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں