بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نانا کی میراث کی تقسیم


سوال

 میرے نانا مرحوم کے کل تین بیٹے اور چھ بیٹیاں ہوئی تھیں، ایک بیٹے کا نانا مرحوم کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا، اور وہ شادی شدہ تھا، اس کی بیوہ میرے نانا کی ماتحتی میں تھی، نانا کے انتقال کے بعد میری نانی نے اس کی دوسری جگہ شادی کروا دی تھی، اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی ہے، نانا کی بظاہر بڑی پراپرٹیوں میں دو فلیٹ اور ایک دکان تھی، دو فلیٹوں کو نانا نے اپنی زندگی میں اپنے دونوں بیٹوں کے نام کردیا تھا، اور اس کا قبضہ بھی اپنے بیٹوں کو اپنی زندگی میں ہی دے دیا تھا، اور دکان کے حوالے سے زبانی یہ  وصیت کی تھی کہ یہ دکان میری بیوی کی ہے ، (جس کے کرائے سے میری بیوی اپنی ضروریات پوری کرے گی) میری بیوی کے بعد میری لڑکیوں کی ہے، واضح رہے کہ میرے نانا کے انتقال کو اب کافی سال گزر گئے ہیں، نانی الحمد اللہ حیات ہیں،میرے نانا کی زبانی وصیت پر تمام ورثاء (میرےماموں، نانی، والدہ اورتمام خالائیں)اب تک متفق رہے ہیں، نانی دکان کے کرائے سے اپنی ضروریات پوری کرتی رہی ہیں، اور دیگر اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی شادیوں پر ایک خاص فارمولے کے تحت برابری کے اصول پر گفٹ دیتی رہی ہیں، اب میری کچھ خالاؤں کو رقم کی ضرورت ہے،اور وہ بہت زیادہ مجبور بھی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ہمیں اب اپنے والد کی دکان میں سے وراثت کا حصہ چاہیے،دونوں ماموں کہتے ہیں کہ ابو نے ہمیں فلیٹ دے دیا، ابو کی وصییت کے مطابق یہ دکان بہنوں کی ہے، ہمارا اس میں حصہ نہیں ہے، ہم اس پر راضی ہیں، نانی بھی اپنی کچھ بیٹیوں کے مالی وسائل کو دیکھ کر دکان فروخت کرنے پر راضی ہوگئی ہیں، میرے نانا کے انتقال کے کافی سالوں بعد ابھی کچھ سالوں پہلے میری ایک خالہ کا بھی انتقال ہوگیاہے،اب نانی کی حیاتی میں انتہائی مجبوری کی بناء پر تمام ورثاء نانا کی دکان فروخت کرنے پر متفق ہوگئے ہیں، لیکن یہ لوگ تقسیم اس فارمولے کے تحت کررہے ہیں پہلے نانی کے کنوارے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی شادی کے گفٹ کے پیسے نکالینگے، اس کے بعد بقایا رقم کے سات حصے کرینگے، ایک نانی کا،چھ بیٹیوں (بشمول ایک مرحومہ خالہ )کا، علماءکرام سے پوچھنا یہ تھا کہ کیا نانا کی وراثت صحیح تقسیم ہورہی ہے؟؟؟ اگر تقسیم صحیح نہیں ہے تو پھر شرعی طور پر تقسیم میں رہنمائی کر دیجئے۔ 

وضاحت:دو پلاٹ تھے الگ الگ دونوں بیٹوں کو ہبہ کیا تھا اورمکمل قبضہ اور تصرف بھی دیا تھا،اور یہ دونوں فلیٹ  خالی تھےاور بیٹے راضی تھے۔اور بیٹے دوکا ن کے تقسیم سے دست بردار ہوئے۔

جواب

واضح  رہے  کہ   ہر شخص زندگی میں اپنے مملوکہ مال کا مالک ہوتاہے، اس کی زندگی میں اولاد کا اس میں حصہ نہیں ہوتا، تاہم اگر  وہ اپنی  زندگی میں  اپنا مال خوشی   و رضا سے  اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور  اپنی زندگی میں جو  مال وغیرہ   تقسیم کیا جائے   وہ   میراث نہیں، بلکہ  ہبہ (گفٹ) کہلاتا  ہے،  اور   رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا  ہے، جیساکہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے:

"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا، قال: «فأرجعه» . و في رواية ... قال: «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»."

(مشکوٰۃ  المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط: قدیمی)

ترجمہ:"حضرت نعمان  بن بشیرؓ  کے بارے  منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر ؓ) انہیں  رسولِ کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

اپنی  زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی  طریقہ یہ ہے کہ   اپنے مال   میں سے  اپنے  لیے   جتنا چاہے رکھ لے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ مال اپنی  تمام  اولاد میں برابر تقسیم کردے یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے،  نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا اور اس صورت میں ایسی تقسیم شرعًا غیر منصفانہ کہلائے گی۔

         البتہ  کسی بیٹے یا  بیٹی کو  کسی معقول شرعی وجہ کی بنا پر  دوسروں کی بہ نسبت   کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے،  یعنی کسی کی کثرتِ شرافت، ودِین داری کے یا  زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر یا غریب ہونے کی بناء پر اس کو  دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی  اجازت  ہے، لیکن کسی کو بالکل محروم کردینا اور کسی کو دینا درست نہیں ہے۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے  صورتِ مسئولہ  میں  سائل کے نانا نے اپنے مملوکہ دوفلیٹ دوبیٹوں کے نام کرکے ان کو مالکانہ قبضہ اور تصرف کے ساتھ حوالہ بھی کردیاتھاتویہ دونوں اپنے اپنے فلیٹ کے مالک بن گئےتھے ،البتہ سائل کے نانا نے اپنی بیٹیوں کو بالکل محروم رکھا انہیں کچھ نہیں دیاتو وہ اس غیر منصفانہ عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوئے، سائل کے دونوں ماموں  کو چاہیے کہ وہ اپنے والد کو اخروی مواخذے سے بچانے کے لیے ان دونوں فلیٹوں کو سب  میں برابر برابر تقسیم  کردیں، یا کچھ رقم  وغیرہ دے کر بہنوں اور والد ہ کو راضی  کرلیں، یا  بیٹیاں  اپنی والد کو معاف کردیں؛ تاکہ وہ آخرت کی پکڑ سے بچ جائے۔

سائل کے نانا کی  بیوی  چوں کہ نانا کی شرعی وارث ہے،لہذا نانی کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ دوکان  کو شرعی حساب کے مطابق ورثاء میں تقسیم کریں،اور دوکان کا جو کرایہ نانی استعمال کرتی رہی ہے وہ چوں کہ  ورثاء کی رضامندی سے کرتی رہی ہے؛ لہذا خرچ شدہ کرایہ ترکہ میں شامل نہیں ہوگا،نیز پوتے ،پوتیوں ،نواسے اور نواسیوں کا میراث میں کوئی حصہ  نہیں ہیں،البتہ ورثاء میں سے کوئی اپنے شرعی حصہ میں سے انہیں کچھ دینا چاہیے تو دے سکتاہے اور یہ اس کی طرف سے احسان اور تبرع ہوگا۔

سائل کے نانا مرحوم  کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے   حقوقِ  متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو کل ترکہ سے  قرضہ ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرکے  باقی کل  منقولہ و غیر منقولہ ترکہ  کو48حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 6حصے  سائل کی نانی  (بیوہ) کو، 7،7 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت(نانا)8/ 48

بیوہبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
6777777

فیصد کے اعتبار سے سائل کی نانی کو12.5فیصد اور ہر ایک بیٹی کو14.583فیصد ملے گا۔

نیز فوت شدہ بیٹی کا حصہ اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية."

وفیہ ایضا :

"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."       

(کتاب الوصایا،ج:6،ص:90،ط:دار الفکر)

شرح المجلہ میں ہے:

’’الأموال المشترکة شرکة الملک تقسم حاصلاتها بین أصحابها علی قدر حصصهم".

 (شرح المجلة للأتاسي،  الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة،4/14، الْمَادَّةُ :1073،ط: رشیدیه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100866

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں