بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نان نفقہ نہ دینا موانع ارث میں سے نہیں ہے


سوال

میری خالہ کا انتقال ہو گیا ہے،ورثاء میں شوہر ،3 بھائی اور دو بہنیں ہیں ،خالہ کی حقیقی اولاد نہیں تھی ،البتہ ان کے شوہر کی پہلی بیوی سے ایک بیٹی تھی ،میرے خالو صاحب حیثیت ہیں ،دو یا تین جائیدادیں بھی ہیں ،وہ ڈاکٹر بھی ہیں اور اپنا کلینک بھی ہے ، خالو میری خالہ کو کوئی خرچہ و غیرہ نہیں دیتے تھے ،خالہ کو جو جائیداد اور زیور  اپنی والدین کی طرف سے ملا تھا اسی سے اپنا خرچہ اور خالو کا خرچہ چلاتی تھیں ،خالہ کینسر کی مریضہ تھیں اس میں بھی سارا خرچہ خالہ نے اپنے ذاتی پیسوں سے ہی کیا ،اور خالو کی آنکھ کی سرجری اور گھٹنے کا آپریشن ہوا ،اس کے پیسے بھی  خالہ ہی نے دیے،الغرض جو بھی خرچہ ہو ،کوئی دعوت ہو یا پیٹرول کا خرچہ ہو سب خالہ ہی دیتی تھیں ،اس صورت حال میں آپ بتائیں کہ خالو کا کتنا حصہ ہوگا ،ذہن میں ایک سوال ہے کہ جب خالو نے کچھ خالہ کا کیا ہی نہیں ہے تو پھر خالو کو کیوں حصہ مل رہا ہے ،خالہ کی چاہت تھی کہ اپنے سب پیسے کار خیر میں لگادیتیں ،کئی دفعہ اس کا تذکرہ بھی کیا ۔لیکن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہمت نہیں کر پائیں ۔

جواب

1)صورت مسئولہ میں سائل کے خالو پر لازم تھا کہ وہ خالہ کو نان نفقہ دیتے جس سے وہ اپنی ضروریات کا بندو بست کرتیں ،خالو کا نان نفقہ نہ دینا شرعاً درست نہیں تھا ،لیکن نان و نفقہ نہ دینا  میراث کے محرومی کے اسباب میں سے نہیں ہے ،لہذا خالو باوجود تمام تر ذمہ داری نہ نبہانے کی وجہ سے خالہ کی میراث سے محروم نہیں ہوں گے ۔

2)سائل کی خالہ   کے ترکہ کی    تقسیم  کاشرعی  طریقہ یہ  ہے کہ مرحومہ کے  حقوق  متقدمہ     یعنی اگر مرحومہ  کے ذمہ  کوئی قرض ہو تو  اسے ادا کرنے کے بعد،اگر مرحومہ  نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے ایک تہائی حصہ میں اسے نافذکرنے کے بعد باقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 16 حصوں میں تقسیم کر کے شوہر کو 8 حصے ،ہر ایک بھائی کو 2 ، ہر ایک بہن کو ایک حصہ ملے گااور مرحوم کی سوتیلی بیٹی محروم رہیں گی ،نیز مرحومہ کے کفن دفن کا خرچہ مرحومہ کے شوہر کے ذمہ لازم ہے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت :2 / 16

شوہر بھائی بھائیبھائیبہنبہن
11
822211

یعنی 100 فیصد میں سے 50 فیصد شوہر کو ،ہر بھائی کو 12.50 فیصد اور ہر بہن کو 6.25 فیصد ملے گا ۔

تنویر الابصار میں ہے:

"وموانعه الرق و القتل واختلاف الدين واختلاف  الدارين"

(رد المحتار ،کتاب الفرائض،ج:6،ص:767،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں