بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1445ھ 30 نومبر 2023 ء

دارالافتاء

 

ناموں کا شخصیت پر اثر


سوال

کیا شفاہ نام رکھنا جائز ہے؟اور اس کے صحیع معنی کیا ہیں؟اور نام کے اثرات بچے کی شخصیت پر ہوتے ہیں یا نہیں؟

جواب

’’شفاہ‘‘شین پر زبر کے ساتھ بطور فعل  دعائیہ جملہ وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے،"شفاہ اللہ" بمعنی اللہ تعالیٰ اس کو شفا دے،اور شین کے نیچے زیر کے ساتھ’’ شفۃ‘‘ بمعنی ہونٹ،کی جمع ہے،البتہ’’ شفاء‘‘( آخر میں ہمزہ کے ساتھ، نہ کہ ھاء کے ساتھ )کے معنی ہیں : آرام، افاقہ، صحت یابی،  بیماری کا ازالہ،لہذا شفاہ کے بجائے شفاء نام رکھ لیا جائے تو بہتر ہے۔

ناموں کے اثرات انسان کی شخصیت، کردار اور اخلاق پر عموماً پڑتے ہیں،  اچھے نام کے اچھے اثرات اور برے نام کے برے اثرات انسانی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں؛ لہٰذا نام رکھنے کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ یا تو انبیاءِ کرام علیہم السلام، صحابہ کرام، صحابیات مکرمات اور نیک مردوں یا عورتوں کے نام پر اولاد کا نام رکھا جائے یا اچھے معنیٰ پر مشتمل نام رکھا جائے۔  روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  برے ناموں کو اچھے ناموں سے تبدیل فرما دیا کرتے تھے۔

البتہ آزمائشوں یا بیماریوں کے آنے، نصیب کے اچھا یا برا ہونے کا مدار نام پر نہیں ہے،اور اس طرح کا عقیدہ رکھنا بھی درست نہیں ہے،  بلکہ بیماری اور صحت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اچھی نسبت سے  نام رکھنے یا اچھے معنی والا نام رکھنے کے باوجود  بھی آزمائش آسکتی ہے، اسے من جانب اللہ سمجھ کر اس کی طرف رجوع کیا جائے۔

لسان العرب میں ہے:

"شفه: الشفتان من الإنسان: طبقا الفم، الواحدة شفة، منقوصة لام الفعل ولامها هاء، والشفة أصلها شفهة لأن تصغيرها شفيهة، والجمع ‌شفاه، بالهاء."

(فصل الشیںن المعجمۃ،ج13،ص506،ط؛دار صادر)

شرح سنن ابی داود لابن رسلان میں ہے:

"ثنا أحمد بن صالح) الطبري، المصري، شيخ البخاري (ثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب) سيد التابعين (عن أبيه) المسيب (عن جده) حزن بن أبي وهب بن عمرو المخزومي، له هجرة، وكان أحد الأشراف، وأخواه هبيرة وزيد.

(أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: ما اسمك؟ قال: حزن. قال: أنت سهل) وحزن بفتح الحاء المهملة وسكون الزاي، وزاد البخاري بعد قوله: (أنت سهل) قال: لا أغير اسما سمانيه أبي. قال ابن المسيب: فما زالت الحزونة فينا بعد (3).

وفي الحديث: دلالة على كراهة الأسماء القبيحة، فإن الحزن في اللغة هو الأرض الغليظة اليابسة التي يشق حرثها، ومنه الحزن بضم الحاء وهو الهم الذي يعتري الآدمي ويضيق به صدره، والحزونة الخشونة والصعوبة.

وقيل: تغيير الاسم القبيح بضده، فإن السهل ضد الحزن، قال البغوي: روي عن سهل بن سعد  أن رجلا كان اسمه أسود، فسماه النبي -صلى الله عليه وسلم- بأبيض . كما سمى حربا سلما، وهو ضده كما سيأتي.

(قال: لا) أغير اسم أبي؛ لأن (السهل) من الأرض (يوطأ) بالمشي فيه بالنعال والدواب وغيرها (ويمتهن) أي: يداس ويبتذل من المهنة ، قاله في "النهاية" ، أي: يقصد السهل من الطريق والأرض للمشي فيها والتردد فيها لسهولة ذلك، بخلاف الأرض الخشنة اليابسة الصعبة السلوك، وفي دعائه -صلى الله عليه وسلم-: "اللهم لا سهل إلا ما جعلته سهلا، وأنت تجعل الحزن إذا شئت سهلا" يعني: للمشي فيه.

(قال سعيد) بن المسيب ([فظننت]  أنه سيصيبنا بعده) أي: يصيب أولاد حزن وذريته ونسله وعقبه من بعد قوله النبي -صلى الله عليه وسلم- له ذلك، أو بعد موته (حزونة) أي: صعوبة وخشونة. أي: علمت أنه سيحصل له ولنا من بعده الصعوبة والتعسير في أمورنا وأحوالنا؛ عقوبة مخالفة ما اختاره له من السهولة في الأمور، وهكذا ينبغي أن يكون التلميذ مع شيخه والولد مع والده، لا يخالفه فيما يشيره عليه، بل يأخذه بالقبول وإن لم يفهم حكمته، فقد ظهر لكثير من مخالفي المشايخ من العلماء والصوفية وغيرهم بالمخالفة فساد كثير."

(باب في تغيير الاسم القبيح،ج19،ص63،ط؛دار لفلاح)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

اچھے بُرے ناموں کے اثرات

"اچھے نام کے اچھے اثرات اور بُرے نام کے بُرے اثرات تو بلاشبہ ہوتے ہیں،اسی بنا پر اچھا نام رکھنے کا حکم ہے......"

(ناموں سے متعلق،ج8،ص283،ط؛مکتبہ لُدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407101537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں