بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

نام کے برج معلوم کرنےکا حکم


سوال

میرے نام کا برج کون سا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ستارے، سیارے، برج  اور ہاتھوں کی لکیروں کا انسانی زندگی کے بنانے یا بگاڑنے میں کوئی اثر نہیں، اسی طرح مخصوص پتھریا مخصوص اعداد بھی  انسانی زندگی پراثر انداز نہیں ہوتے، انسان کی زندگی مبارک یا نامبارک ہونے میں اس کے اعمال کا دخل ہے، نیک اور اچھے اعمال انسان کی مبارک زندگی اور برے  اعمال ناخوش گوار  زندگی کا باعث ہوتے ہیں،  پتھروں یا اعداد کو اثر انداز سمجھنا مشرک قوموں کا عقیدہ ہے، مسلمانوں کا نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت اس سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تو پتھر ہے، نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، اگر میں نے رسولِ خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا  تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا، نئے مسلمان ہونے والے لوگوں  کے دلوں میں پتھروں کی تاثیر کا جاہلی عقیدہ مٹانے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ  ان کے سامنے حجر اسود سےاس انداز میں گویا ہوئے،لہذا نام کا عدد معلوم کرنے اور اس کے مطابق برج  دیکھنے  کے بعد انسان توہمات کا شکار ہوسکتا ہے، اپنی شخصیت کی تشکیل اور اوصاف کے حامل ہونے میں  ستاروں اور سیاروں   کو مؤثرِ حقیقی جان سکتا ہے،یوں یہ چیز   بسا اوقات انسان کو  کفر کے دہانے تک پہنچا دیتا ہے، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔

 شرح مسلم نووی میں ہے:

"قبل عمر بن الخطاب الحجر ثم قال أم والله ‌لقد ‌علمت ‌أنك ‌حجر ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك) وفي الرواية الأخرى وإني لأعلم أنك حجر وأنك لا تضر ولا تنفع هذا الحديث فيه فوائد منها استحباب تقبيل الحجر الأسود في الطواف بعد استلامه وكذا يستحب السجود على الحجر أيضا بأن يضع جبهته عليه فيستحب أن يستلمه ثم يقبله ثم يضع جبهته عليه۔۔۔وأما قول عمر رضي الله عنه ‌لقد ‌علمت ‌أنك ‌حجر وإني لأعلم أنك حجر وأنت لا تضر ولا تنفع فأراد به بيان الحث على الاقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم في تقبيله ونبه على أنه أولا الاقتداء به لما فعله وإنما قال وإنك لا تضر ولا تنفع لئلا يغتر بعض قربى".

( كتاب الحج، باب استحباب تقبيل الحجر،16/9 دار إحياء التراث العربي )

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: الكاهن قيل: كالساحر) في الحديث: "«من أتى ‌كاهنًا أو عرافًا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد» أخرجه أصحاب السنن الأربعة، وصححه الحاكم عن أبي هريرة.

والكاهن كما في مختصر النهاية للسيوطي: من يتعاطى الخبر عن الكائنات في المستقبل ويدعي معرفة الأسرار. والعراف: المنجم. وقال الخطابي: هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق والضالة ونحوهما. اهـ. والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف. والرمال والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب بالحصى، والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه. وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اهـ. قلت: فعلى هذا أرباب التقاويم من أنواع الكاهن لادعائهم العلم بالحوادث الكائنة."

(کتاب الجھاد، باب المرتد،4/ 242،  سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100544

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں