بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نامحرم خواتین سے مصافحہ


سوال

میں نے سنا ہےکہ اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ نبی اکرمﷺ نے کبھی بھی کسی غیر محرم عورت کو نہیں دیکھا۔ اس حوالے سے وضاحت فرما دیں۔

جواب

غالباً سائل کو  مذکورہ بات میں اشتباہ ہوا ہے،  صحیح احادیثِ مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی غیر محرم کو ہاتھ نہیں لگایا، چناں چہ حضرت عائش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نے کبھی کسی عورت (نا محرم) کی ہتھیلی کو نہیں چھوا۔

"وفي رواية : أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلامِ .. وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ". (صحيح مسلم 3470)

بخاری شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی خاتون کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا،  مگر اس خاتون کے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملکیت حاصل تھی۔

"وفي رواية عنها رضي الله عنها قالت: مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ إِلا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا". (رواه البخاري 6674)

نیز  بخاری شریف کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آنے والی خواتین کا سورہ ممتحنہ کی آیت کے مطابق امتحان لیتے، ( کہ وہ کہیں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور مقصد سے تو ہجرت کرکے نہیں آئیں) جب وہ امتحان پر پوری اتر آتیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہتے کہ میں نے تمہیں زبانی بیعت کرلی ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بخدا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں بھی کسی خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا۔

یہاں یہ ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود سورہ ممتحنہ میں آپ ﷺ کو  ایسی خواتین کو  بیعت کرنے کا حکم دیا ہے اور عرب میں بیعت کا مطلب یہی تھا کہ کسی بڑے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وفاداری کا پختہ عہد کیا جائے، جیساکہ صلح حدیبیہ کے موقع کی بیعت کا ذکر سورۃ الفتح میں موجود ہے، اور وہاں دستِ مبارک پر بیعت قرآنِ کریم کے اشارے اور روایات کے تواتر سے یقینی طور پر ثابت ہے۔ اس کے باوجود خواتین کو بیعت کرتے وقت آپ ﷺ نے  صراحت سے فرمایا  کہ  میں نے تمہیں زبانی کلامی بیعت کیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قسم اٹھا کر تصریح فرمائی  کہ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک نے کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔

باقی سائل نے سوال میں جو بات ذکر کی ہے اس پر اجماع کا ثبوت نہیں ملتا، نہ ہی کسی مستند صاحبِ علم نے یہ دعویٰ کیا ہے۔   رسول اللہ ﷺ سے شرعی مسائل کی راہ نمائی کے لیے اور  ضرورت کے موقع پر خواتین کا بات کرنا اور سامنے آنا ثابت ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ امت کے لیے والد کا درجہ رکھتے ہیں، آپ ﷺ کے لیے غیر محرم خاتون کو دیکھنے کا حکم اور حیثیت وہ نہیں جو امتی کے لیے ہے، اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ سے غیر محارم کی طرف ارادۃً بلاضرورت غیر محارم کی طرف نگاہ کرنے سے اجتناب اور صحابہ کرام کو اس سے روکنا ثابت ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202940

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں