بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نمازوں کے اوقات تبدیل کرنے کا حق کس کو ہے؟


سوال

نماز کے اوقات بدلنے کا حق امام کو ہے یا متولی کو ؟

ہمارے یہاں متولی حضرات کا کہنا ہے کہ ہماری اجازت کے بغیر نماز کے اوقات میں تبدیلی نہ کی جائے۔

جواب

نماز  باجماعت کے اوقات  کی تبدیلی کا تعلق نمازوں کے مستحب اوقات   کے احکام سے ہے،  اور  ان میں بعض  مصالح کے تحت تبدیلی بھی ہوتی ہے، اگر مسجد کا متولی نمازوں کے مستحب اوقات  اور  ان سے متعلقہ  ضروری مسائل  اور مقتدیوں کے مصالح سے واقف ہو  تو نمازوں کے اوقات میں تبدیلی کا  حقدار مسجد کا متولی ہے، لیکن اگر  وہ نماز کے مسائل سے واقف نہ ہو تو  اس صورت میں امامِ مسجد  جماعت کے اوقات میں تبدیلی کر سکتا ہے،  تاہم موجودہ زمانے میں بہتر یہ ہے کہ باہمی رضامندی  سے کسی معتبر مفتی کی نگرانی  میں  سال بھر کے لیے اوقات نماز کا ایک نقشہ  بنوا لیا جائے، اور نقشہ  کے مطابق مقررہ  تاریخوں پر متولی یا امام اوقات نماز کی تبدیلی سے نمازیوں کو آگاہ کر دے، اور اوقات نماز کی تبدیلی  کو محل نزاع نہ بنایا جائے۔

رد المحتار علي الدر المختارمیں ہے:

"ولاية الأذان والإقامة لباني المسجد مطلقا وكذا الإمامة لو عدلا.

(قوله: مطلقًا) أي عدلًا أو لا. و في الأشباه: ولد الباني وعشيرته أولى من غيرهم اهـ وسيجيء في الوقف أن القوم إذا عينوا مؤذنا وإماما وكان أصلح مما نصبه الباني فهو أولى، وذكره في الفتح عن النوازل وأقره. اهـ. مدني."

(كتاب الصلاة، باب الأذان، ١ / ٤٠٠، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144511101147

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں