بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جماعت کا مقررہ وقت ہونے کے بعد دیگر نمازیوں کے انتظار کی وجہ سے جماعت کھڑی کرنے میں تاخیر کرنے کا حکم


سوال

نماز کے لیے دوسرے نمازیوں کا انتظار کرنا ٹھیک ہے؟ جب کہ مقررہ وقت ہو چکا ہو اور کچھ نمازی پہلے سے موجود ہوں۔

جواب

باجماعت نماز کے  لیے مقرر شدہ  وقت پر اگر امام صاحب اور کچھ نمازی موجود ہوں تو ایسی صورت میں مقررہ وقت پر جماعت کھڑی کردینی چاہیے، مقررہ وقت ہونے کے بعد دیگر نمازیوں کے انتظار میں جماعت کو مؤخر نہیں کرنا  چاہیے، جو نمازی راستہ میں ہوں گے وہ ایک، دو رکعت گزرنے کے بعد پہنچ کر شامل ہوجائیں گے، البتہ اگر جماعت کا وقت ہوجانے کی صورت میں امام صاحب موجود نہ ہوں تو  دیکھا جائے کہ  اگر امام صاحب وہیں موجود ہوں یعنی وضو وغیرہ میں مصروف ہوں  یاحجرے میں ہوں تو  ان کا انتظار کرنا چاہیے۔ اگر امام صاحب موجود نہ ہوں اور ان کے نہ آنے کا یقین ہو تو بلاتاخیر جماعت کھڑی کرلی جائے، اور  اگر آنے کا یقین ہے تو انتظار کیا جائے، اور اگرکچھ معلوم نہ ہو تو دوچار منٹ انتظارکرکے جماعت کھڑی کرلی جائے۔

گھڑی کے مطابق نمازوں کے اوقات کا تعین لوگوں کی سہولت کے لیے ہے، یہ شرعی معیار نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ  کے زمانے میں نمازوں کے مستحب اوقات میں جب لوگ جمع ہوجاتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے تشریف لایا کرتے تھے، لہٰذا اگر امام سے کبھی معمولی تاخیر ہوجائے تو وقت ہوتے ہی فوراً کھڑا ہونا اور امام کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے،  وقار اور بردباری اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ہاں پسندیدہ صفات ہیں، ایسے مواقع پر ان صفات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200525

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں