بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نمازی کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا


سوال

سوال یہ ہے کہ اگر کسی نمازی کے سامنے کوئی اس کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوجائے تو اس سے نماز پر کیا اثر پڑے گا ؟جیسے کسی کی ایک دو رکعت جماعت سے رہ جاتی ہیں اور وہ امام کے سلام کے بعد انہیں پوری کرتا ہےتو کبھی اگلی صف کا آدمی نمازی کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوجاتا ہے کہ کب اس کی نماز ختم ہوگی اور کب میں یہاں سے جاؤں۔

جواب

نمازی کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا مکروہ ہے ، اس سے نمازی کی نماز پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا ،البتہ ایسے لوگوں کو چاہئے کہ پچھلی صفوں میں نماز پڑھنے والوں کی نماز کے مکمل ہونے تک اپنی جگہوں پر بیٹھ کر انتظار کریں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں