بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازہ پڑھانے کاحق دار کون ہے؟


سوال

 کچھ عرصہ پہلے میرے سگے چچا کا انتقال ہوا، نماز جنازہ پڑھانے کا حق دار میں تھا، اس لئے میرے دل میں تھا کہ نماز جنازہ میں پڑھاؤں گا، لیکن مسئلہ یہ پیش آیا کہ ایک محلہ کے امام صاحب نے کسی دوسرے مولانا صاحب سے کہا کہ آپ نماز جنازہ پڑھالیں اور انہوں نے پڑھالی، حالاں کہ امام موصوف ( جس نے دوسرے مولانا صاحب کو نماز جنازہ پڑھانے کا کہا) خود کسی اور محلے کے ہیں، کیوں کہ میرے چچا لوگوں کا محلہ الگ ہے اور امام موصوف کا محلہ الگ ہے اور ان دونوں محلوں کے درمیان ایک بڑا نالہ بھی ہے، بعد میں میں نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے امام موصوف کو نماز جنازہ پڑھانےکی یا کسی دوسرے سے پڑھوانے کے بارے میں کہا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں، ہم نے ان سے کچھ نہیں کہا تھا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں نماز جنازہ پڑھانے کا حق دار شرعا کون تھا، میں تھا یا امام موصوف، یا کوئی اور؟

جواب

واضح رہےکہ نما ز جنازہ کی امامت کے  لیے سب سے مقدم مسلمان حاکمِ وقت ہے اگر موجود ہو ، یا اس کا نائب، پھر قاضی، پھر امامِ مسجدِ محلہ اورپھر میت  کا ولی۔ محلہ کے امام کا ولی پر حقِ امامت میں مقدم ہونا استحباباً ہے،نیزنماز جنازہ پڑھانے کے استحقاق کے سلسلے میں ولی میت امام محلہ سے مقدم ہے، لہذا محلہ کے امام کی موجودگی میں ولی نماز جنازہ پڑھانے کا استحقاق رکھتا ہے؛ البتہ اگر امام مسجد صالح دین دار اور ولی سے افضل ہو تو بہتر یہ ہے کہ ولی خود امام سے پڑھانے کی درخواست کرے  ۔

صورت مسؤلہ میں نماز جنازہ اداہوگئی،نیز میت کے بیٹے کےہوتے ہوئےسائل (جوکہ میت کابھتیجا ہے )نمازجنازہ پڑھانے کاحق دار بھی نہیں تھا ۔

 الفتاوى الهندية میں ہے:

"أولى الناس بالصلاة عليه السلطان إن حضر فإن لم يحضر فالقاضي ثم إمام الحي ثم الولي، هكذا في أكثر المتون.

ذكر الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن الإمام الأعظم وهو الخليفة أولى إن حضر فإن لم يحضر فإمام المصر فإن لم يحضر فالقاضي فإن لم يحضر فصاحب الشرط فإن لم يحضر فإمام الحي فإن لم يحضر فالأقرب من ذوي قرابته وبهذه الرواية أخذ كثير من مشايخنا - رحمهم الله - كذا في الكفاية والنهاية ومعراج الدراية والعناية.

والأولياء على ترتيب العصبات الأقرب فالأقرب إلا الأب فإنه يقدم على الابن، كذا في خزانة المفتين قيل: هذا قول محمد - رحمه الله تعالى - وعندهما الابن أولى، والصحيح أنه قول الكل، كذا في التبيين، وهكذا في الغياثية وفتح القدير."

«الفتاوى العالمكيرية،الفصل الخامس فی الصلاۃ علی المیت (1/ 163)ط:رشیدیہ

فتاوی شامی میں ہے :

"( ويقدم في الصلاة عليه السلطان ) إن حضر ( أو نائبه ) وهو أمير المصر ( ثم القاضي ) ثم صاحب الشرط ثم خليفته القاضي ( ثم إمام الحي ) فيه إيهام وذلك أن تقديم الولاة واجب، وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي وإلا فالولي أولى، كما في المجتبى و شرح المجمع للمصنف، وفي الدراية: إمام المسجد الجامع أولى من إمام الحي أي مسجد محلته ، نهر، ( ثم الولي ) بترتيب عصوبة الإنكاح إلا الأب".

الدرالمختارمع ردالمحتار(2/219)ط:سعید

تبیین الحقائق میں ہے :

"( فصل ) قال رحمه الله : ( السلطان أحق بصلاته ) نص عليه أبو حنيفة بقوله: الخليفة أولى إن حضر، فإن لم يحضر فإمام المصر، وهو سلطانها؛ لأنه في معنى الخليفة، وبعده القاضي، وبعده صاحب الشرطة، وبعده خليفة الوالي، وبعده خليفة القاضي، وبعد هؤلاء إمام الحي، فإن لم يحضروا فالأقرب من ذوي قرابته، وذكر في الأصل: أن إمام الحي أولى بها، وقال أبو يوسف: ولي الميت أولى بها؛ لأن هذا حكم تعلق بالولاية كالإنكاح. وجه الأول ما روي أن الحسين بن علي لما مات الحسن رضي الله عنهم قدم سعيد بن العاص فقال: لولا السنة لما قدمتك، وكان سعيد والياً في المدينة يومئذٍ، هكذا ذكره في اللباب ؛ ولأن في التقدم عليه استخفافاً به ، وتعظيمه واجب شرعاً، وما ذكره في الأصل محمول على ما إذا لم يحضر السلطان ، ولا من يقوم مقامه".

تبیین الحقائق،فصل السلطان احق بصلاۃ الجنازۃ،(238/1)ط:دارالکتاب الاسلامی 

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

«ثم إمام الحي" المراد به إمام مسجد محلته لكن بشرط أن يكون أفضل من الولي وإلا فالولي أولى منه كما في النهر وفي الشرح والصلاة في الأصل حق الأولياء لقربهم إلا أن الإمام والسلطان يقدمان لعارض الإمامة العظمى والسلطنة فإن في التقدم عليهما ازدراء وفساد أمر المسلمين فيتحاشى عن ذلك الفساد فيجب تقديم من له حكم عام وأما إمام الحي فيستحب تقديمه على طريق الأفضلية وليس بواجب»

«حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح»فصل السلطان احق بصلاتہ، (ص589) ط:دارالکتب العلمیۃ بیروت

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں