بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز پڑھنے کے دوران دوسری مسجد میں اذان ہو تو نماز کا حکم


سوال

 اگر ایک مسجد میں اذان ہو چکی ہو اور ایک  شخص نے نماز  پڑھنا شروع کر دی ہو  اور اسی دوران دوسری مسجد میں اذان شروع ہو جائے تو کیا وہ شخص اس اذان کا احترام کرے اور نماز اذان کے بعد پڑھے یا اپنی نماز جاری رکھے؟ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  مذکورہ شخص  نے نماز شروع کر دی ہو تو  دوسری مسجد کی اذان پر وہ  اپنی نماز  نہ توڑے، بلکہ جاری  رکھے۔ اور اگر اس نے ابھی نماز نہ شروع کی ہو اور  دوسری مسجد میں اذان شروع ہوجائے تو  دیکھا جائے گا کہ وہ اس وقت مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے پہنچ چکا ہے یا گھر پر ہے، اگر وہ مسجد میں پہنچ چکا ہے اور اس مسجد میں اذان ہوچکی ہے جس میں وہ موجود ہے تو   دوسری مسجد کی اذان کا جواب دیے بنا نماز شروع کرنے میں حرج نہیں ہے، کیوں کہ یہ شخص اِس مسجد میں نماز کے لیے حاضر ہوکر اذان کا عملی جواب دے چکا ہے، جو واجب ہے، اور اگر اسی مسجد میں اذان شروع ہوجائے جہاں وہ نماز کے لیے گیا ہے تو  زبان سے اس اذان کا جواب دینا مستحب ہوگا، اور اگر  وہ گھر پر موجود ہے اور  (نماز شروع نہیں کی تھی کہ ) محلے کی مسجد میں اذان شروع ہوگئی تو اُسے چاہیے کہ اذان کا جواب دے اور اس کے بعد نفل یا سنتیں شروع کرے۔

ملحوظ رہے کہ مَردوں کے لیے فرض بلاعذر گھر پر ادا کرنا درست نہیں ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کے حل میں ہے:(3/309)

"دورانِ اذان تلاوت کرنا یا نماز پڑھنا

س… دورانِ اذان قرآنِ  مجید کی تلاوت یا نماز پڑھنا دُرست ہے؟

ج… قرآنِ مجید بند کرکے اذان کا جواب دینا  چاہیے، اور اگر نماز پہلے سے شروع کر رکھی ہو تو پڑھتا رہے، ورنہ اذان ختم ہونے کے بعد شروع کرے۔"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 398):

"(ولو كان في المسجد حين سمعه ليس عليه الإجابة، و لو كان خارجه أجاب) بالمشي إليه (بالقدم، و لو أجاب باللسان لا به لايكون مجيبًا) وهذا (بناء على أن الإجابة المطلوبة بقدمه لا بلسانه) كما هو قول الحلواني، وعليه (فيقطع قراءة القرآن لو) كان يقرأ (بمنزله، ويجيب) لو أذان مسجده كما يأتي (ولو بمسجد لا)."

وفي الرد:

"(قوله: ولو بمسجد لا) أي لايجب قطعها بالمعنى الذي ذكرناه آنفًا، فلاينافي ما قدمه من أن إجابة اللسان مندوبة عند الحلواني فافهم."

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144210200426

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں