بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نماز میں تلاوت کے دوران غلطی ہوجائے


سوال

حضرت مسئلہ یہ ہے کہ کوئی شخص محمدرسول اللہ والذین معه اشداء علی الکفارکی جگہ محمد رسول والذين كفروا معه اشداء على الكفار پڑھے تو کیا نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں چوں کہ آیت کا  معنی   بدل  کر بالکل غلط  ہوگیا تو یہ غلطی تغیر فاحش ہے لہٰذا  اگر اسی رکعت میں اس غلطی کی اصلاح نہیں کی گئی تو  نماز فاسد  ہوگئی، اس کا اعادہ (دہرانا) لازم ہوگا۔

فتاوی الخانیة علی هامش الهندیة" میں ہے :

"وإن غیر المعنی تغیراً فاحشاً فإن قرأ: ” وعصی آدم ربه فغوی “ بنصب میم ” اٰدم “ ورفع باء ” ربه “……… وما أشبه ذلک لو تعمد به یکفر، وإذا قرأ خطأً فسدت صلاته..." الخ

( كتاب الصلوۃ،168/1، المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ذکر في الفوائد: لو قرأ في الصلاة بخطإفاحش ثم رجع وقرأ صحیحاً ، قال: عندي صلاته جائزة".

(کتاب الصلوۃ، 82/1، المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)

محیط البرھانی میں ہے :

" وإن كان اختلافاً متباعداً، نحو أن يختم آية الرحمة بآية العذاب أو آية العذاب بآية الرحمة أو أراد أن يقرأ {الشَّيْطَنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ} (البقرة: 268) يجري على لسانه الرحمن يعدكم الفقر؛ فعلى قول أبي حنيفة ومحمد تفسد صلاته."

(کتاب الصلوۃ ،الفصل الرابع  فی کیفیتھا ،323/1،دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144402101031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں