بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں عمداً واجب چھوڑ نے کی صورت میں وقت کے اندر اور وقت کے بعد اعادہ کا حکم


سوال

اگر کسی نے نماز میں واجب عمداً چھوڑدیا،تو اس کی وجہ سے نماز کا کیا حکم ہوگا؟ اور اعادہ وقت کے اندر اور وقت کے بعد دونوں صورتوں میں واجب ہوگا؟ باحوالہ جواب دیجیے۔

جواب

اگر کسی نے نماز میں واجب عمداً چھوڑدیا، تو ایسی نماز کا حکم یہ ہے کہ اس کا دہرانا وقت میں اور وقت کے بعد دونوں صورتوں میں واجب ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، ج: 1، ص: 457،456، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"تعاد وجوب الإعادة في الوقت وبعده... وأما على القول بأنها تكون في الوقت وبعده كما قدمناه عن شرح التحرير وشرح البزدوي، فإنها تكون واجبة في الوقت وبعده أيضا على القول بوجوبها. وأما على القول باستحبابها الذي هو المرجوح تكون مستحبة فيهما، وعليه يحمل ما مر عن القنية عن الترجماني. وأما كونها واجبة في الوقت مندوبة بعده كما فهمه في البحر وتبعه الشارح فلا دليل عليه... قلت: ... يشمل وجوبها في الوقت وبعده: أي بناء على أن الإعادة لا تختص بالوقت."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 64، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503100593

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں