بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1446ھ 20 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سلام پھیرنا واجب ہے


سوال

نماز میں سلام پھیرنا سنت ہے یا فرض یا  واجب ؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں دونوں طرف سلام پھیرنا واجب ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما صفته فإصابة لفظة السلام ليست بفرض عندنا ولكنها واجبة."

(كتاب الصلاة، فصل لفظ الخروج من الصلاة، ج:1، ص:194، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(‌ولفظ ‌السلام) ‌مرتين فالثاني واجب على الأصح برهان، دون عليكم....(قوله: دون عليكم) فليس بواجب عندنا."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، واجبات الصلاة، ج:1، ص:468، ط:سعيد )

مراقی الفلاح شرح نور الاِیضاح میں ہے:

"و" يجب "لفظ السلام" ‌مرتين في اليمين واليسار للمواظبة ولم يكن فرضا لحديث ابن مسعود "دون عليكم" لحصول المقصود بلفظ السلام دون متعلقه ويتجه الوجوب بالمواظبة عليه أيضا."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب شروط الصلاة وأركانها، ‌‌فصل في واجب الصلاة، ص:95، ط:المكتبة العصرية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504100513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں