بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز میں جان بوجھ کر کھانسنا


سوال

اگر امام نماز میں جان بوجھ کر کھانسے تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

اگر نماز میں امام بوجۂ ضرورت کھنکار کر گلا صاف کرے تو اس میں حرج نہیں، تاہم دورانِ نماز بلا عذر  کھنکارنا  مکروہ ہے، اس سے اجتناب کیا جائے، البتہ اس کھنکارنے اور کھانسنے  سے نماز فاسد نہیں ہو گی، حتی الامکان کھانسی پر قابو رکھا جائے اس کے باوجود اگر قدرت نہ رہے تو کھانسنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر بلا عذر قصداً  کھانسنے کی وجہ سے آواز میں حروف پیدا ہو جائیں، مثلاً ((اح)) تو اس سے  نماز فاسد ہوجائے گی۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 613):
"باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها

عقب العارض الاضطراري بالاختياري (يفسدها التكلم) ... "(قوله: والتنحنح) هو أن يقول: أح بالفتح والضم، بحر. (قوله: بحرفين) يعلم حكم الزائد عليهما بالأولى، لكن يوهم أن الزائد لو كان بعذر يفسد، ويخالفه ظاهر ما في النهاية عن المحيط، من أنه إن لم يكن مدفوعاً إليه بل لإصلاح الحلق؛ ليتمكن من القراءة إن ظهر له حروف". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109203286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں